کھانا کھانے میں رسول اللہؐ کی سنتیں کتنی پیاری اور اچھی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ آپؐ جب بھی کھانا کھاتے تھے تو اپنے پیٹ کا کچھ حصہ خالی رکھتے تھے۔ مطلب یہ کہ ایک تو کھانا اتناکم کھایا کہ ڈکار نہ آئیں، دوسرے یہ کہ تھوڑی سی بھوک ابھی باقی ہے۔ کھانا چھوڑ دے۔
آج سائنس کی دنیا کہتی ہے کہ ایک کھجور انسان کے جسم میں جا کر اتنی کیلوریز کر دیتی ہے کہ وہ آدمی بھوک کی وجہ سے تین دن تک نہیں مر سکتا۔سوچئے ہم جو اتنی اتنی غذا کھاتے ہیں کہ اس کا دس فی صد ہمارے جسم کا حصہ بنتا ہے اور 90 فی صد ایسا ہوتاہے جو ہم Crush کرکے خارج کر دیتے ہیں۔ یعنی ہم عادت کے لحاظ سے پیٹ تو بھر رہے ہوتے ہیں مگر جسم اس کو Crush کرکے خارج کر دیتا ہے۔ پوری غذا کا دسواں حصہ ہمارے جسم کا حصہ بنتا ہے تو ہم نے اپنے معدے کو خوب بھر لیا۔ جس کی وجہ سے کئی دفعہ بیماری، فلاں بیماری، گیس کی تکلیف، پیٹ کابڑھنا یہ ساری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔نبی کریمؐ جب کھاتے تو پہلا اصول کہ جتنی بھوک ہوتی تھی اس سے ذرا کم کھاتے تھے۔ دوسری بات ایک وقت میں ایک کھانا کھاتے تھے دو کھانوں کو ملا کر نہیں کھاتے تھے۔ ہم تو ایک ایک دستر خوان پر چار چار پانچ پانچ کھانوں کو ملا کر کھاتے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جتنی مرغن غذائیں ہم نے تیار کی ہوئی ہوتی ہیں آپ ان میں سے تھوڑا تھوڑا لے کر ایک برتن میں ڈال دیں تو دیکھیں کیا بنتا ہے۔ اس کو دیکھنے کو بھی دل نہیں چاہے گا۔



















































