اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

محبت کا انجام۔

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

بہت پریشان لگ رہی ہو ایمن۔ کیوں بار بار وقت دیکھے جارہی ہو؟ کہیں جانا ہے کیا؟” عروبہ نے ایمن کی بےچینی محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔ “کچھ نہیں یار۔ کہاں رہ گیا ہے وہ؟” ایمن نے پھر کلائی پہ بندھی گھڑی پہ وقت دیکھا۔ “کچھ بتاؤ تو سہی۔ کس کا انتظار ہورہا ہے۔ مجھ سے کیا پردہ ہے تمہارا۔” عروبہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “یار وہ احمد۔۔۔ عروبہ۔ احمد نے آج وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے پک کرنے آئے گا۔

مگر ناجانے کہاں رہ گیا ہے۔” ایمن نے پہلو بدلتے ہوئے جواب دیا۔ “اوو تو یہ بات ہے۔ ایمن میں نے تمہیں اتنا سمجھایا تھا کہ احمد سے دوستی چھوڑ دو مگر آج نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ وہ تمہیں لینے آرہا ہے؟؟ دیکھو عورت کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ ایسا نہ ہو کہ کل کو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔۔” عروبہ نے اس کا ہاتھ تھامے محبت سے سمجھاتے ہوئے کہا۔ “تم مجھے خوش نہیں دیکھ سکتی عروبہ۔ مسئلہ کیا ہے تمہیں احمد سے؟ ایسا سلجھا ہوا لڑکا کبھی دیکھا تم نے؟ وہ میری عزت کا رکھوالا ہے۔ تم کیوں ہر وقت مجھے لیکچر دیتی رہتی ہو؟ ،کیا برائی ہے احمد میں،؟ ” ایمن نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور بیگ اٹھاتے ہوئے کھڑی ہوگئ۔ “نہیں ایمن۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم غلط ہو۔ یا،احمد برا لڑکا ہے۔ مگر یہ طریقہ گھر والوں سے چھپ چھپ کر ملنا کب جائز ہے؟ اگر تمہیں وہ پسند ہے تو تم اپنے گھر والوں سے بات کرو تاکہ تم گنہگار نہ ہو ” عروبہ بھی کھڑی ہوگئ۔ “رہنے دو عروبہ یہ جائز اور ناجائز کا فلسفہ اپنے پاس ہی رکھو اور رہی گھر والوں سے بات کرنا تو وہ اس رشتے پہ راضی ہیں کیونکہ احمد جتنا قابل اور محنتی شخص ہے اس کا اندازہ شاید تمہیں نہیں ہے۔” ایمن نے بھی کھرا سا جواب دے دیا۔ “اونہہ۔ محنتی اور قابل۔۔ بس کرو ایمن۔ ایسے شخص جس سے پہچان تمہاری سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی جو تمہارا حسن دیکھ چکا ہے تمہیں کیا لگتا ہے وہ کل کو تمہارا ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا؟ کبھی بھی نہیں ایمن۔ تم کیوں نہیں سمجھ جاتی۔

تمہاری عقل کو کیا ہوگیا ہے؟ کیسا جادو کردیا ہے اس لڑکے نے تم پہ؟ تمہیں اپنی بہترین دوست کی باتیں بھی سمجھ نہیں آرہیں۔۔ ” عروبہ کی آواز بھرا گئ۔ “وہ محبت کرتا ہے مجھے سے عروبہ۔ وہ صرف میرا ہے تم دیکھ لینا وہ کیسا شوہر ثابت ہوگا اور ہاں اس کی محبت سچی ہے۔ اور اچھے سے سوچ لو اگر آئندہ کبھی تم نے احمد کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ” ایمن پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے نکل گئ۔ عروبہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے احمد کے ساتھ جاتے دیکھ لیا تھا۔۔ عروبہ اور ایمن یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتی تھیں۔ ان کی دوستی سکول سے چلی آرہی تھی۔ سب کچھ پرسکون تھا مگر ایک دن اچانک ایمن کی فیس بک پہ ایک احمد نامی لڑکے سے بات چیت ہوئی۔ اس نے اپنے مہذب انداز سے ایمن کے دل پہ اپنی دھاک بیٹھانے کی کوشش کی اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی رہا تھا۔ آہستہ آہستہ ایمن اس کی باتوں کی اس قدر گرویدہ ہوتی گئ کہ اسے ہر وقت اس کی یاد ہی ستانے لگی۔ اگر وہ کچھ دیر وہ جواب نہ دیتا تو ایمن بےقرار ہوجاتی۔ احمد کو بھی اس تمام صورتحال کا علم بخوبی تھا۔ وہ بھی جان بوجھ کے اسے ستاتا تو وہ کبھی اس سے لڑ پڑتی تھی۔ احمد جب سے ایمن کی زندگی میں آیا تھا عروبہ اور ایمن کی دوستی میں واضح فرق آیا تھا۔ عروبہ نے ایمن کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر ایمن کو کبھی اس کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ احمد نے ایک دن ایمن کو باہر ملنے کی دعوت دی جسے ایمن نے بخوشی قبول کرلیا

اور آج اسی بات پہ عروبہ اور ایمن کی لڑائی ہوگئ تھی۔ ایمن اپنے گھر والوں کو یہ بات کسی حد تک بتا چکی تھی کہ وہ کسی کو پسند کرتی ہے اور احمد بھی ارادہ کرچکا تھا کہ وہ اسی لڑکی سے شادی کرے گا۔۔ چند ماہ تک یہ سلسلہ یوں چلتا رہا بالاخر سالانہ امتحان تک احمد کے گھر والے بھی مان گئے کیونکہ وہ انہیں خودکشی کرنے کی دھمکی دے چکا تھا تو سب نے چپ سادھ لی۔ ایمن کے والد کا انتقال ہوچکاتھا۔ کچھ کوشش کے بعد وہ اپنی ماں اور بہن کو منانے پہ تیار ہوگئ تھی۔ سالانہ امتحانات کے فوراً بعد ایمن اور احمد کا نکاح رکھ دیاگیا۔ عروبہ نے بھی مروتاً شرکت کی۔ رخصتی کے بعد ایمن نے احمد کا ایک دوسرا ہی رخ دیکھا۔ وہ اس کی جانب التفات نہیں کرتا تھا۔ پہلے پہل تو وہ نظرانداز کرتی رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ احمد کے تلخ لہجے میں اضافہ ہوتاگیا۔ ایمن اس کے ساتھ اچھا رویہ رکھنے کی کوشش کرتی رہی مگر سب بےسود۔ وہ اسے بات بات پہ طلاق کی دھمکیاں بھی دینے لگا تھا۔ جب وہ اسے پہلے والی محبت یاد دلاتی تو اس کا جواب ہوتا۔۔ “پاگل تھا میں جو تم سے محبت کی تم قابل ہی نہیں تھی محبت کے۔ تمہارا حسن سب تمہارے میک اپ کی کارستانی تھا۔ تم بہت بڑی جھوٹی لڑکی ہو۔ کبھی میں تمہارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا۔۔” ایمن اپنے آنسو پونچھتی تو اسے عروبہ کی باتیں یاد آنے لگتیں۔ آخر ہروقت کی لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر ایمن نے ایک دن خودکشی کرلی۔ احمد وہاں سے فرار ہوگیا۔ ایمن کی ماں کو جب یہ خبر ملی تو وہ بھی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی۔

یہ سب اس نام نہاد محبت کی وجہ سے ہوا جس کی ابتدا غیر شرعی تھی اور جب ابتدا ہی اچھی نہ ہو تو اسکا انجام یہ ہی ہوا کرتا ہے جیسے ایمن کا ہوا کہ خود وہ حرام موت اس دنیا سے چلی گئی اور دو گھر بھی برباد ہوئے۔ اللہ ہماری سب بچیوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے۔ آمین۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…