مجاھد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن تین آدمیوں کو بارگاہ الٰہی میں لایا جائے گا ایک امیر ہوگا دوسرا مریض اور تیسرا غلام۔ امیر سے کہا جائے گا کسی چیز نے تجھے میری عبادت سے روکے رکھا ؟ وہ عرض کرے گا : مال کی کثرت نے مجھے عبادت سے غافل رکھا۔ اب سیدنا سلیمان علیہ السلام کو پیش کیا جائے گا اور آپ علیہ السلام کی بادشاہت کی جھلک دکھا کر پوچھا جائے گا کہ :
تمہارے پاس زیادہ دولت تھی یا اِن کے پاس ، امیر آدمی کہے گا کہ : اِن کے پاس زیادہ مال و دولت تھی کہا جائے گا کہ اتنے مال اور دولت کے باوجود یہ میری عبادت سے غافل نہیں تھا۔ مریض کو لایا جائے گا اور پوچھا جائے گا : میری عبادت سے کیا چیز مانع تھی وہ جواب دے گا : میں بیمار تھا اب سیدنا ایوب علیہ السلام کو بیماری کی حالت میں لایا جائے اور پوچھا جائے گا : تم زیادہ بیمار اور لاچار تھے یا کہ یہ ؟ مریض کہے گا بلکہ یہ زیادہ بیمار تھے ، کہا جائے گا : بیماری اور ضعف بھی اسے میری عبادت کرنے سے باز نہیں رکھ سکا اب غلام کی باری ہوگی پوچھا جائے گا : کس چیز نے میری عبادت سے باز رکھا؟ جواب دے گا : میں غلام آدمی تھا ، اب سیدنا یوسف علیہ السلام کی غلامی کی زندگی دکھائی جائے گی اور پوچھا جائے گا :تمہاری غلامی اور قید زیادہ سخت ہے یا کہ اِن کی؟ وہ جواب دے گا : اِن کی۔ کہا جائےگا :ان کی غلامی اور قید بھی میری عبادت میں آڑے نہ آسکی ۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اللہ تبارک وتعالی سے کہا :اے میرے رب تیری عزت کی قسم جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں میں انہیں برابر بہکاتا رہوں گا ، اللہ تعالی نے اس کے جواب میں فرمایا : میرے عزت وجلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے رہیں گے میں بھی انہیں معاف کرتا رہوں گا ۔



















































