ابلیس سمندر کے بیچ اپنا تخت لگا کر بیٹھا ہوا سب چیلوں کے کارنامے سن رہا تھا کسی نے کہا کہ آج اس نے ڈھیر ساری شرابیں پلائیں، ایک نے کہا کہ آج اس نے ڈھیر سارے زنا کروایے، تو کسی نے کہا کہ آج اس نے دو گھروں کو آپس میں لڑوایا ابلیس سب کی سنتا رہا۔ اتنے میں ایک اور شیطان چیلہ آیا اور بولا کہ آقا آج میں نے ایک طالب علم کو علم حاصل کرنے سے باز رکھا۔(واضح ہو کہ یہ علم علم دین والا ہے)
یہ سنتے ہی ابلیس تخت سے خوشی سے اچھل پڑا اور اسکو گلے لگا کر اسکا ماتھا چوم لیا کہ تم سب سے اچھا کام کر کے آیے۔ باقی شیاطین یہ دیکھ کر جل بھن گئے۔ ایک شیطان ہمت کر کہ بولا سردار ہم نے اتنے بڑے بڑے کام کیے ہمیں کچھ نہ کہا اور اس نے صرف ایک طالبعلم کو علم سے دور رکھا اور اسکو اتنی شاباشی مل گئ؟ ابلیس بولا تمہیں کچھ نہیں معلوم ایسا کرو تمہیں ٹرائل دکھاتا ہوں کہ مجھے وہ جگہ ڈھونڈ کے دکھاو جہاں ایک عابد رہتا ہے اور اسی علاقے میں دوسری جگہ ایک عالم رہتا ہے۔ اسی وقت ایک شیطان گیا اور کچھ پل بعد آکر بولا کہ ایک ایسی جگہ موجو دہے جہاں عابد بھی رہتا ہے اور عالم بھی رہتا ہے۔ ابلیس پلید سب چیلوں کو اس جگہ پر لے گیا۔ باقی چیلے تو چھپے رہے لیکن ابلیس انسان کی شکل اختیار کر کے اس جگہ کھڑا ہو گیا جہاں عابد نماز پڑھنے کے لیے گھر سے مسجد تک نکلتے۔ عابد جب رستے پر آئے تو ابلیس جو شیطانی شکل میں تھا اس نے سوال کر دیا کہ حضرت مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ عابد نے کہا جلدی پوچھو مجھے نماز میں دیر ہو رہی ہے۔ تو ابلیس نے جلدی سے ایک چھوٹی سی شیشی جیب سے نکالی اور کہا اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے کیا یہ زمین آسمان اس چھوٹی سی شیشی میں ڈال سکتا ہے؟ عابد نے کچھ سوچا اور بولا کہ کہاں یہ چھوٹی سی شیشی اور کہاں زمین و آسمان۔ ابلیس نے کہا بس ٹھیک ہے آپ جائیے۔ عابد کے جانے کے بعد ابلیس نے سب شیاطین کو حاضر کیا اور بولا آو مجھے اب عالم کے پاس لے چلو۔۔
شیاطین نے اسکو عالم کا رستہ دکھایا۔ عالم صاحب بھی نماز کے لیے آرہے تھے تو ابلیس نے انسانی شکل اختیار کرتے ہوئے وہی سوال پوچھا کہ حضرت کیا اس چھوٹی سی شیشی میں اللہ پوری کائنات کو سمو سکتا ہے؟ عالم صاحب مسکرائے اور کہا یہ تو بہت بڑی شیشی ہے میرا خدا تو اس سے تین گنا چھوٹی شیشی میں ارض و سما سمو سکتا ہے۔ یہ کہہ کر عالم صاحب تشریف لے گئے۔ اب ابلیس پوری کابینہ کو لے کر واپس سمندر کے بیچ آگیا اور تخت پر بیٹھ کر بولا کچھ سمجھے ہو کہ میں نے کیوں اس شیطان کا ماتھا چوما جس نے طالبعلم کو علم سے روکا تھا۔ ہم عابد کے پاس گئے وہ ابھی علم حاصل کر رہا ہے اسکو ابھی خدا پر توکل نہیں اس لیے اسکا ایمان ڈگمگا دیا میں نے۔ اگر نہ کرتا تو اس نے علم حاصل کر کے مکمل قدرت اور یقین محکم حاصل کر لینا تھا۔ اس کے برعکس تم نے عالم دیکھا کیسا پختہ اعتماد اور اعتقاد و یقین تھا خدا پر اسکو ۔۔ وجہ صرف یہ کہ علم حاصل کرتا رہا اور خدا پر یقین بڑھا لیا اس نے کہ میں نہ چاہ کر بھی اسکا ایمان ڈگمگا نا سکا۔



















































