میں تمہارے گھر میں بار بار آتا رہوں گا،یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑوں گا۔” یہ الفاظ اس کے ہیں جو ہر گھر،ہر عالیشان محفل اور ہر اس جگہ آتا ہے جہاں کوئی متنفس رہتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کے پاس ملک الموت نے نہیں آنا۔ہر ایک کے پاس آنا ہے،
شاہ و گدا کے پاس بھی، امیر و غریب کے پاس بھی ،صحت مند اور بیمار کے پاس بھی،نبی اور ولی کے پاس بھی،کوئی حاجب و دربان، کوئی چوکیدار اور پہرے دار اور کوئی تالہ و دروازہ اسے اندر جانے سے نہیں روک سکتا۔ حافظ ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ملک الموت ہر گھر میں تین مرتبہ روزانہ چکر لگا کر دیکھتے ہیں کہ کس کا رزق پورا ہو گیا، کس کی مدت عمر پوری ہو گئی۔جس کا رزق پورا ہو جاتا ہے۔اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور جب اس کے گھر والے اس کی موت پر روتے ہیں تو ملک الموت دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔”میرا کوئی گناہ نہیں۔ مجھے تو اسی کا حکم دیا گیا ہے۔واللہ! میں نے نہ تو اس کا رزق کھایا اور نہ اس کی عمر گھٹائی،نہ اس کی مدت عمر سے کچھ حصّہ کم کیا۔ میں تمہارے گھروں میں بار بار آتا رہوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑوں گا۔” سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میت کے گھر والے ملک الموت کا کھڑا ہونا دیکھ لیں اور اس کا کلام سن لیں تو اپنی میت کو بالکل بھول جائیں اور اپنے اوپر رونا شروع کردیں۔



















































