اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

خط

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

ایک دفعہ مولانا ظفر علی خان کے نام مہاشہ کرشن ایڈیٹر “پرتاپ” کا دعوت نامہ آیا جس میں لکھا تھا: “فلاں دن پروشنا فلاں سمت بکرمی میرے سُپّتر ویریندر کا مُونڈن سنسکار ہوگا۔ شریمان سے نویدن ہے کہ پدھار کر مجھے اور میرے پریوار پر کرپا کریں۔ شُبھ چنتک کرشن.

“( فلاں دن میرے بیٹے ویریندر کی سر مُنڈائی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لا کر مجھ اور میرے خاندان پر مہربانی کریں۔ ) مولانا نے آواز دی سالک صاحب! ذرا آئیے گا۔ فرمایا کہ مہربانی کرکے اس دعوت نامے کا جواب آپ میری طرف سے لکھ دیجیے۔ “برسات کے دن ہیں، بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی، میں کہاں جاؤں گا، معذرت کر دیجیے۔” میں نے اُسی وقت قلم اٹھایا اور لکھا: “جمیل المناقب، عمیم الاحسان، معلّی الألقاب، مدیرِ پرتاپ السلام علیٰ من اتّبع الھُدیٰ! نامۂ عنبر شمامہ شرفِ صدور لایا. از بس کہ تقاطرِ امطار بحدّ ہے کہ مانع ایاب ذہاب ہے۔ لہٰذا میری حاضری متعذّر ہے. العُذر عند کِرام النّاسِ مقبول۔” الرّاجی الٰی الرّحمة والغُفران ظفر علی خان۔ مہاشہ کرشن نے یہ خط پڑھنے کی کوشش کی. کچھ پلے پڑنا تو درکنار، وہ پڑھنے میں بھی ناکام رہے. آخر مولانا کو دفتر “زمیندار” ٹیلی فون کر کے پوچھا: “مولانا! آپ کا خط تو مل گیا لیکن یہ فرمائیے کہ آپ آسکیں یا نہیں؟” اس پر مولانا ظفر علی خان نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور مہاشہ جی سے کہا کہ: “آپ کا خط میں نے ایک پنڈت جی سے پڑھوایا تھا۔ آپ بھی کسی مولوی صاحب کو بلوا کر میرا خط پڑھوا لیجیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…