سلیمان بن عبدالملک جو بنی اُمیہ کا بادشاہ تھا،ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازمؒ سے دریافت کیا:” اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو ناپسند کرتے ہیں؟”آپ نے برجستہ جواب دیا: ” تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کیا اس لیے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف منتقل ہونے سے گھبراتے ہو۔”پھر سلیمان نے کہا:”کاش ہم کو معلوم ہو جاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہے؟”آپ نے فرمایا:” قرآن پڑھ لو تمہیں معلوم ہو جائے گا۔”سلیمان نے پوچھا:” کون سی آیت پڑھوں؟” آپ نے فرمایا:”
(ان الابرار لفی نعیم و ان الفجار لفی جحیم)”نیکو کار یقیناً جنت میں ہوں گے اور بدکار یقیناً جہنم میں ہوں گے۔”پھر سلیمان نے دریافت کیا: دربار الہٰی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہو گا؟آپ نے جواب دیا: “نیکو کاروں کا تو یہ حال ہو گا کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے اور بدکاروں کا یہ حال ہو گا کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار ہو کر آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔” شیخ ابو حازم کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوستہ ہو گئی اور وہ چیخ مار کر رونے لگا۔



















































