اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ایجاد اپنی محبوبہ کے لئے

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

1870ء میں ایک روز ایڈیسن دن ڈھلے اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے تمام ملازم دن کا کام ختم کرکے اپنے اپنے گھر جا چکے تھے، مگر وہ خود ایک مشین کی تیاری کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے دفتر میں ٹھہر گیا تھا، بالآخر وہ بھی دفتر سے اٹھ گیا۔ اس نے گیس کی نلکیاں بند کر دیں اور دفتر سے باہر نکلنے کے لیے بیرونی دروازہ کھولا۔ وہ باہر قدم رکھنے والا تھا کہ موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔

اس نے گھبرا کر اپنے دفتر واپس جانے اور بارش تھمنے تک وہیں بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ دو نوجوان لڑکیاں جو اچانک بارش میں گھر گئی تھیں، پانی سے بچنے کے لیے بھاگتی ہوئی دروازے کے اندر گھس آئیں۔ ’’ارے!‘‘ بڑی لڑکی نے حیرت سے کہا ’’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہاں کوئی اور کھڑا ہوا ہے۔ بارش سے بچنے کے لیے ہم بھاگتے ہوئے بلا سوچے سمجھے یہاں چلی آئی ہیں۔‘‘ ’’میں اس دکان کا مالک ٹامس ایڈیسن ہوں۔ آیئے ! بارش رکنے تک دفتر ہی میں بیٹھ جائیے۔ میں گیس بھی جلا دوں گا۔‘‘ ’’ہم آپ کے کام میں ہرگز خلل نہیں ڈالیں گی مسٹر ایڈیسن! میرا نام میری سٹلول ہے اور یہ میری بہن ایلس ہے۔‘‘ ایڈیسن نے سلام کے لیے اپنا سر خم کیا۔ دونوں بہنیں بارش تھمنے کے انتظار میں ٹھہر گئیں اور نوجوان موجد ان سے باتیں کرنے لگا۔ میری کی چمکتی ہوئی آنکھوں، حسین چہرے اور شائستگی نے اسے بہت متاثر کیا۔ چند لمحوں میں بارش تھم گئی۔ اپنے دفتر کے دروازوں میں پناہ دینے پر دونوں لڑکیوں نے ایڈیسن کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے انہیں گھر تک پہنچانے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا اور شام کے دھند لکے میں غائب ہو گئیں۔ میری سٹلول کی تصویر ایڈیسن کے دل پر کچھ ایسی نقش ہوئی کہ وہ اسے کسی طرح نہ بھول سکا۔ اس نے محتاط انداز میں اپنے دوستوں سے معلومات حاصل کیں۔

اسے معلوم ہوا کہ میری سٹلول نیویارک کے سنڈے سکول میں پڑھاتی ہے اور مسٹر نکولس سٹلول اور مسز مارگریٹ سٹلول کی لڑکی ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا دوست مرے دونوں لڑکیوں سے واقف ہے۔ ایڈیسن نے مرے کو آمادہ کیا کہ وہ مسٹر سٹلول کے گھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جائے۔ اس ملاقات کے بعد ایڈیسن نے محسوس کیا کہ اسے وہ عورت مل گئی، جسے وہ رفیقۂ حیات بنانا چاہتا تھا۔ وہ میری کے گھر بار بارجانے لگا۔ کچھ دن بعد وہ میری کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے اپنے کام سے بھی پیچھا چھڑانے لگا۔ وہ اسے تھیٹر اور نغمہ و سرور کی محفلوں میں ساتھ لے جاتا۔ اتوار کی شام کو وہ ایک بگھی کرائے پر لے کر اس کے ساتھ نیویارک کی سایہ دار سڑکوں پر سیر کرنے جاتا۔ بعض اوقات وہ ایک تانگہ نما گاڑی بھی کرائے پر لیتا۔ اس کی اگلی نشست پر ٹام اور میری اور پچھلی پر مرے اور ایلس بیٹھتے تھے۔ ایک دن نوجوان ایڈیسن نے مسٹر سٹلول سے کہا کہ وہ میری سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے باپ نے کہا کہ میری لڑکی کی عمر ابھی بہت کم ہے اور وہ شادی کے قابل نہیں۔ میں ایک سال سے قبل اس کی شادی پر رضا مند نہیں ہو سکتا۔ چند روز بعد ایڈیسن نے میری کو تحفے میں دینے کے لیے مٹھائی خریدی۔ میری نے جب اس پر سے کاغذ اتارنا چاہا، تو وہ کسی طرح نہ اترا۔ کاغذ مٹھائی پر اس بری طرح چیک گیا تھا کہ اسے صرف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اتارا جا سکتا تھا۔ اسے دیکھ کر ایڈیسن جھنجلا گیا۔ اس نے شکایتاً کہا:

’’کسی کو ایسا کاغذ بنانا چاہیے جو کھانے پینے کی چیزوں خصوصاً مٹھائی اور کیک پر چپکنے نہ پائے۔‘‘ میری نے قہقہہ لگایا اور اسے چیلنج دیتے ہوئے کہا: ’’تم بھی تو موجد ہو، تم خود ایسا کاغذ کیوں ایجاد نہیں کر لیتے؟‘‘ ’’میں ضرور ایجاد کروں گا اور تمہیں میری مدد کرنا پڑے گی‘‘ایڈیسن نے بلند آواز سے کہا۔ ایڈیسن لیبارٹری میں میری نے بھی دفتر کے معاون کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ اس نے اور ایڈیسن نے مل کر چیزیں لپیٹنے کے مختلف اقسام کے کاغذ کا تجربہ کیا۔ میری سٹلول کی مدد سے ایڈیسن ایک ایسا مومی کاغذ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گیا، جو مٹھائی اور کیک بسکٹ وغیرہ پر لپیٹنے کے لیے بہت موزوں تھا۔ بالٓاخر ایک سال کے انتظار کی مدت ختم ہو گئی۔ 1871ء میں کرسمس کے دِن ٹامس اے ایڈیسن نے میری سٹلول سے شادی کر لی اور ان کے مشترکہ دوست مرے نے شہ بالا کے فرائض انجام دیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…