کسی نے مولانا رومؒ سے پوچھا کہ آپ نے مثنوی لکھی تو اس میں بڑی معرفت کی باتیں لکھیں، یہ معرفت کیسے ملی؟ انہوں نے فرمایا: ایک کتے کی وجہ سے، پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگے کہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا، کھیتوں کے درمیان چھوٹا سا راستہ تھا، پگڈنڈی تھی اور اس پر ایک کتا سویا ہوا تھا، تو میں نے سوچا کہ میں قریب سے گزروں
گا توکتے کی نیند خراب ہو گی، میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا، تھوڑی دیرکے بعد کتا خود ہی اٹھ کر چلا گیا، پھر میں آگے چلا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات القاء کی گئی کہ تو نے کتے کے آرام کا بھی خیال رکھا، اس کے بعد ہم تمہیں اپنی معرفت عطا فرمائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کتنی معرفت کی باتیں میری زبان سے کہلوا دیں!



















































