یہودیوں کا ایک عالم تھا، ان کا نام زید بن سعنہ تھا، ان کا قصہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے۔زین بن سعنہ یہودی کے علماء میں سے ایک عالم تھے اور ان کے پاس مال بھی تھا، وہ اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت اچھا تھا، انہوں نے نبی کریمؐ کے ساتھ کئی غزوات میں حصہ بھی لیا، جب وہ تبوک سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں ان کی وفات ہو گئی۔
ان سے عبداللہ بن سلام نے یہ روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب میں نے نبی اکرمؐ کا چہرۂ انور دیکھا تو میں نے آپؐ میں نبوت کی تمام علامات دیکھ لیں، سوائے دو کے جن کا مجھے پتہ نہ چل سکا۔وہ صفتیں کون سی تھیں؟ تورات میں لکھا ہوا تھا ’’آخری نبیؐ کا حلم ان کے غصے پر غالب ہو گا اور اگر اس کے ساتھ کوئی جہالت کا برتاؤ کرے گا تو ان کا حلم اور زیادہ بڑھ جائے گا۔فرماتے ہیں: یہ دو علامت ایسی تھی جو مجھے ڈھونڈنی تھیں،چنانچہ فرماتے ہیں، اب میں پلاننگ کر رہا تھا تاکہ مجھے کوئی موقع ملے اور میں ان کے ساتھ میل جول کر سکوں کہ (معلوم ہو) ان کا حلم کتنا ہے۔کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ ایک دن اپنے حجرات میں سے نکلے اور حضرت علیؓ آپؐ کے ساتھ تھے، ایک آدمی اپنی سواری پر آیا، جیسے دیہاتی ہوتا ہے وہ کہنے لگا: اے اللہ کے پیارے حبیبؐ! فلاں قریہ کے لوگ ایمان لے آئے، اگر آپ ان کو کوئی مدد بھجوانا چاہیں تو آپ ان کو بھیج سکتے ہیں، ان کو قحط آ گیا، اس وقت اللہ کے حبیبؐ کے پاس کوئی چیز نہیں تھی، زید کہتے ہیں، میں ذرا قریب ہوا اور کہا: اے محمدؐ! اگر آپ کہتے ہیں تو فلاں باغ کی اتنی کھجوریں آپ مجھے بیچ دیں۔مقصد یہ تھا کہ میں ابھی دیتا ہوں، آپ مجھے کھجوریں دے دینا، نبی کریمؐ نے فرمایا: میں تمہیں کھجوروں کا اتنا وزن دوں گا، اس باغ کی کھجوروں کی شرط نہیں (یہ بیع سلم کہلاتی ہے) میں نے کہا: چلو ٹھیک ہے،
پس سودا ہو گیا اور میں نے آپؐ کو اسی دینار دے دیے، نبی کریمؐ نے وہ اسی دینار اس بندے کو دے دیے اور فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے لے جاؤ، زید کہتے ہیں: ابھی مقررہ دن سے دو تین دن باقی تھے، نبی کریمؐ ایک انصاری صحابی کے جنازے کے لیے تشریف لائے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بھی تھے،
جب جنازہ پڑھ لیا تو میں آیا اور میں نے نبی کریمؐ کی قمیص اور تہبند کے جوڑے پکڑ لیا اور بڑے غصے سے نبی کریمؐ کو دیکھا۔پھر میں نے کہا: اے محمدؐ! کیا تم میرا حق نہیں دو گے؟ اللہ کی قسم! یہ عبدالمطلب کی اولاد کے لوگ قرض کی ادائیگی میں بہت برے ہیں۔یعنی ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، اس نے جان بوجھ کر غصہ دلانے والی بات کی۔کہتے ہیں کہ میں نے عمرؓ کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں میری طرف لگ گئیں۔
پھر عمرؓ نے یہ فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو اللہ کے حبیبؐ کو یہ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کوحق کے ساتھ بھیجا، اگر مجھے اس حق کے فوت ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیرا سراڑا کے رکھ دیتا۔اور اللہ کے حبیبؐ نے عمرؓ کو بڑے سکون کے ساتھ اور مسکراتے ہوئے دیکھا۔پھر نبی کریمؐ نے فرمایا: اے عمر! میں اور وہ تیرے ایسے رویے کے محتاج نہیں،
یعنی تیرا رویہ اور ہونا چاہیے تھا۔وہ یہ کہ تو اس سے کہتا کہ تو اچھی طرح سے اپنا قرضہ مانگ اور مجھے کہتا کہ جی آپ قرضے کی ادائیگی میں جلدی کریں۔پھر اللہ کے حبیب ؐ نے فرمایا: اے عمرؓ! جاؤ اور اسے اس کی کھجوریں دے دو اور بیس صاع کھجوریں زیادہ دینا، اس لیے کہ تو نے اس کو دھمکی دی ہے۔ زید فرماتے ہیں کہ عمرؓ میرے ساتھ گئے، انہوں نے مجھے کھجوریں دیں اور انہوں نے بیس صاع کھجوریں زیادہ دیں، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا۔اللہ اکبر کبیرا!۔۔۔ اللہ کے پیارے حبیبؐ نے ہمیں کفار کے ساتھ معاملات کا یہ سبق فرما دیا۔



















































