نبی کریمؐ کی مبارک زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ایک مرتبہ آپؐ سفر پر تشریف لے جا رہے تھے اور ایک صحابی ساتھ تھے۔ ایک جگہ رکے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک درخت سے دو مسواک بنائے، ان میں سے ایک مسواک سیدھی اور خوب صورت تھی اور ایک ذرا ٹیڑھی تھی، نبی کریمؐ نے سیدھی مسواک اس صحابی کو دے دیا اور ٹیڑھی مسواک اپنے پاس رکھ لی، اس صحابیؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ!
میرا دل چاہتا ہے کہ یہ سیدھی مسواک آپ کے پاس ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ سیدھی اور خوبصورت مسواک آپ کے پاس ہو، دیکھا! کیسی تعلیمات دی ہیں!۔۔۔ شریکِ سفر اگر کوئی ہے تو اس کا بھی حق بنا دیا۔ اگر زندگی کا چند قدموں کے لیے چلتے ہوئے کوئی شریک بن جاتا ہے تو اس کا حق ہے، تو جو ایک گھر میں پیدا ہوئے، ایک ماں باپ کے نورِ نظر ہیں، ان کا ایک دوسرے پر کتنا حق ہو گا؟



















































