اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ذرا بیت اللہ کا دروازہ کھول دو

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

آپؐ کے اخلاق عظیمیہ کا یہ عالم کہ آپ ہجرت فرما رہے تھے۔ آپؐ کا جی چاہتا تھا کہ روانگی سے پہلے میں بیت اللہ شریف کے اندر جاؤں اور اندر جا کردو رکعت نفل پڑھوں اور اللہ رب العزت کے سامنے دعا کروں، سجدہ ریز ہو جاؤں۔ آپ نے اس بندے کو بلایا جس کا نام عثمان تھا اور وہ بنی شیبہ میں سے تھا، اس کے پاس بیت اللہ شریف کی چابی ہوتی تھی۔

اس سے کہا کہ بھئی! ذرا بیت اللہ کا دروازہ کھول دو تاکہ میں دو رکعت پڑھ لوں۔ اس نے آگے سے کہا کہ نہیں کھولتا، وہ مسلمان نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا: بھئی! کھول دو۔ کہنے لگا کہ نہیں کھولنا، آپؐ کے دل کی بڑی تمنا تھی لیکن اس نے پوری نہ ہونے دی۔ جب آپؐ نے دیکھا کہ نہیں مان رہا، اس وقت آپ نے فرمایا: عثمان! ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جیسے تم چابی ہاتھ میں لے کر اس وقت کھڑے ہو، ایسے میں چابی ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوں گا اور جیسے میں تم سے مانگ رہا ہوں، ایسے ہی تم میرے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہو گے۔ سوچو! اس وقت کیا ہوگا؟ جب آپؐ نے یوں فرمایا تو اس کو غصہ آ گیا، وہ آگے سے بکواس کرنے لگا کہ شیخ چلی کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں چابی آئے۔ اس نے بہت ادھر ادھر کی باتیں کیں، محبوبؐ نے جدا ہونا تھا، مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنی تھی، آپؐ نے بیت اللہ کو دیکھ کر فرمایا:’’مکہ! دل نہیں چاہتا کہ تجھے چھوڑ دوں، مگر تیرے شہر کے بسنے والے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے، اس لیے میں یہاں سے ہجرت کرکے جا رہا ہوں۔‘‘آپؐ نے خاموشی سے ہجرت فرمائی۔ جب فتح مکہ کا وقت آیا تو نبیؐ فاتح بن کر داخل ہوئے۔ اس وقت مکہ کے لوگوں کی حالت عجیب تھی۔ سب عورتیں یہ سمجھتی تھیں کہ آج مسلمان ہم سے گن گن کر بدلہ لیں گے، بعض یہ سمجھتی تھیں کہ آج پورے مکہ میں کسی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔۔۔

مال محفوظ نہیں رہے گا۔۔۔ جان محفوظ نہیں رہے گی۔ مسلمانوں کو ہم نے اتنا تنگ کیا تھا کہ یہ ہم سے گن گن کر بدلہ لیں گے۔ اس لیے وہ ڈر سے گھروں میں چھپی ہوئی تھیں۔ آدھی رات کا وقت ہوگیا اور کوئی مسلمان کسی گھر میں داخل نہیں ہوا۔ اس پر عورتیں بڑی حیران ہوئیں۔ انہوں نے مردوں سے کہا جائیں پتہ کریں، مسلمان ہیں کہاں؟ یہ کوئی پلاننگ تو نہیں کر رہے۔ جب مردوں نے آ کر دیکھا کہ مسلمان حرم کے اندر ہیں،

کوئی سجدہ کر رہا ہے، کوئی بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر رو رہا ہے، کوئی مقام ابراہیم پر سجدے میں ہے، سب اللہ رب العزت کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں، وہ بڑے حیران ہوئے۔چنانچہ جب اگلا دن ہوا تو نبی کریمؐ نے عثمان کو بلایا، وہ چابی لے کر آیا، نبی کریمؐ نے اس سے چابی لے لی، بیت اللہ کا دروازہ کھولا، بتوں کو توڑا، صاف کر دیا اور پھر آپؐ نے وہاں نماز ادا فرمائی۔ جب باہر تشریف لائے تو آپؐ نے پھر بیت اللہ کو تالہ لگا دیا۔

جب آپؐ نے بیت اللہ کو تالہ لگایا تو اس وقت وہاں پر عجیب منظر تھا۔۔۔ کیونکہ مکہ مکرمہ والے سمجھ رہے تھے کہ وہ بڑا خوش نصیب ہوگا جس کے ہاتھ میں آج آپ چابی دیں گے۔ قریش کے لوگ بھی قریب ہو گئے جو آپ کے خدام تھے وہ بھی قریب ہو گئے۔ہر صحابی کے دل میں تمنا تھی کہ مجھے بیت اللہ کا چابی بردار بنا دیاجائے۔جب کوئی فاتح بن کر داخل ہوتا ہے تو وہ دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے،

ساری دنیا کا دستور یہی ہے مگر یہ تو ایک نرالا فاتح تھا، جس نے ساری دنیا کو اخلاق کا درس دیناتھا۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے جب تالہ لگا دیا تو اس وقت عثمان آپ کے سامنے تھا۔آپ نے فرمایا: عثمان! اس وقت کو یاد کرو، جب میں نے تم سے چابی مانگی تھی اورتم نے دینے سے انکار کیا تھا، دیکھو! آج چابی میرے ہاتھ میں ہے، تم خالی ہاتھ میرے سامنے کھڑے ہو۔ اس وقت وہ کہنے لگا کہ جی! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں؟

آپؐ نے فرمایا: جیسا تو نے میرے ساتھ کیا تھا، میں تمہارے ساتھ ویسا نہیں کروں گا۔ میں چابی تمہیں واپس دیتا ہوں۔ اگرچہ تم کافر ہو مگر بیت اللہ کی چابی کی ذمہ داری میں تمہیں سونپتا ہوں۔ جب آپؐ نے چابی اس کے ہاتھ میں دی تو وہ کہنے لگے، اے اللہ کے محبوبؐ! آپؐ نے چابی تو دے دی، اب آپؐ میرے دل کا تالہ بھی کھول دیجئے، چنانچہ آپؐ نے فرمایا کہ یہ چابی قیامت تک تمہارے خاندان میں چلتی رہے گی۔ہم جیسا کوئی ہوتا تو بدلے لیتا کہ تم نے اس وقت یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا۔۔۔ تو دیکھئے! اللہ کے محبوبؐ کے کیا اخلاق تھے۔ ا سی کو اخلاق عظیمہ کہتے ہیں اور یہ اخلاق ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…