حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ بہت ہی زیادہ نازک مزاج تھے ان کے تو واقعات بہت ہی زیادہ ہیں مگر روحانی مقام اتنا تھا کہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے تھے: اللہ رب العزت نے مجھے ایسا کشف دیا کہ میں پوری دنیا کو اس طرح دیکھتا ہوں جیسے ہتھیلی پر پڑے ہوئے کسی دانے کو دیکھتا ہوں،یہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس کشف کے حاصل ہونے کے بعد میں یہ کہتا ہوں
کہ اس وقت پوری دنیا میں مرزا مظہر جان جاناں جیسا دوسرا کوئی بزرگ موجود نہیں تو جن کے بارے میں ایک محدث ، ایک مفسر یہ کہہ رہا ہو اس مرزا مظہر جان جاناںؒ کو جو یہ مقام ملا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کی بیوی ذرا تیز زبان تھی، بات بات پر ذرا سخت لفظ بول دیتی تھی تو انہوں نے اپنی بیوی کی اس ایذاء پر صبر کیا، اللہ نے ان کو ولایت کا اتنا اونچا مقام عطا فرمایا۔ہمارے حضرت مرشد عالم حضرت غلام حبیب نقشبندیؒ نے اپنا واقعہ سنایا، فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ وضو کر رہا تھا اور اہلیہ صاحبہ وضو کروا رہی تھیں۔۔۔ بیویاں بڑھاپے میں لاٹھی کی مانند ہوتی ہیں۔۔۔ حضرت نے فرمایا کہ اس دوران مجھے کچھ غلط فہمی ہوئی، یعنی اہلیہ صاحبہ اس طرح پانی نہ ڈالا جیسے میں ڈالنا چاہتا تھا، چنانچہ میں نے ان کو جھڑک دیا، اہلیہ صاحبہ صبر والی تھی لہذا وہ جھڑک سن کر خاموش ہو گئیں، پھر جب میں وضو کرکے مسجد کی طرف چلا تو مجھے ایک حدیث پاک یاد آ گئی کہ جو کسی کا دل دکھائے بغیر مسجد میں آئے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور میں تو بیوی کا دل دکھا کر آ رہا ہوں،فرماتے ہیں کہ جماعت کا وقت ہو چکا تھا میں مسجد کے صحن سے واپس اپنے گھر گیا اور جا کر اپنی اہلیہ صاحبہ سے معذرت کر لی اور انہیں خوش کرکے مسجد میں گیا اور پھر سوچا کہ اب میرا اللہ میری اس عبادت سے خوش ہو گا اور اسے قبول فرمائے گا۔



















































