حضرت بایزید بسطامیؒ نئے کپڑے پہنے، نہائے دھوئے مسجد کی طرف جا رہے تھے، رستے میں ایک عورت کو پتہ نہیں تھا اس نے اپنے گھر کی چھت سے کچھ گندگی، کچھ راکھ نیچے گلی میں پھینکی، اس کو پتہ نہیں تھا کہ کوئی نیچے سے گزر رہا تھا یا نہیں، آپ بالکل نیچے تھے، وہ ساری راکھ آپ کے سر کے اوپر آ پڑی، چنانچہ سر میں بھی راکھ پڑ گئی، کپڑوں پر بھی راکھ پڑ گئی، لوگ حیران تھے کہ آپ کی
طبیعت میں غصہ آئے گا، لیکن آپ الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ کہنے لگے، آپ نے فرمایا بلکہ میں دل میں یہ سوچ رہا تھا، اے اللہ! میں تو اس قابل تھا کہ میرے سر پرآگ کے انگارے برسائے جاتے، فقط تو نے میرے سر پر راکھ ڈال کر معاملہ ہلکا کر دیا۔تو سوچئے ان کے سر پر راکھ پڑی اور ابھی بھی سوچتے ہیں کہ میرا سر انگارے برسائے جانے کے قابل تھا، یہ تو مولا نے ترس فرما دیا کہ راکھ کے ساتھ معاملہ نمٹ گیا۔



















































