اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ چھوٹی سی بیری ہے

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

ایک مرتبہ حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ انڈیا کے دورے پر گئے۔ انہوں نے راستے میں ایک بیری دیکھی۔۔۔ بیری دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک بیری کا تنا بڑا ہوتا ہے اور کافی اوپر جا کر بیر لگتے ہیں اور ایک بیری جھاڑی کی شکل میں ہوتی ہے وہ چھوٹی سی ہوتی ہے مگر بیروں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔۔۔ تو انہوں نے جھاڑی نما بیری راستے میں دیکھی۔ حضرت کو اس وقت بھوک بھی لگی ہوئی تھی،

چنانچہ وہ وہاں سے بیر توڑ توڑ کر کھانے لگے۔ بیر کھاتے ہوئے ان کو خیال آیا کہ یہ چھوٹی سی بیری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اتنے سارے بیر لگا دئیے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ میں رو کراللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگا۔ اے اللہ! یہ چھوٹی سی بیری ہے، تو نے اسے اتنے سارے پھل عطا فرما دئیے ہیں، میں بھی تیرا چھوٹا سا بندہ ہوں، اللہ! مجھے بھی پھل عطا فرما دے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ عاجزی کے یہ کلمات اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے قبول ہوئے کہ جب میں اگلے شہر میں گیا تو ایک قطب مدار مجھ سے بیعت ہوا، اللہ اکبر!!!
ایک بچے کو باپ نے پڑھنے کے لیے بھیجا، جب وہ پڑھ کر واپس آیا تو باپ نے پوچھا، بیٹا! آج استاد نے کیا سبق پڑھایا؟ بچے نے کہا، جی استاد نے پڑھایا ہے کہ ۔۔۔ الف خالی ہوتی ہے۔۔۔ ہمارے زمانے میں ایسے ہی پڑھایا کرتے تھے کہ الف خالی، با کے نیچے ایک نقطہ ’’ت‘‘ کے اوپر دو نقطے، حروف کی پہچان کروانے کے لیے اس طرح پڑھاتے تھے۔۔۔ تو بچے نے کہا کہ استاد نے پڑھایا ہے کہ الف خالی ہوتا ہے واقعی جو ’’الف‘‘ کی طرح بن کے رہتا ہے وہ فیض سے خالی رہتا ہے اور جو جھکتا ہے اللہ رب العزت اس پر رحمت فرما دیتے ہیں۔ آپ ذرا غور کریں کہ ’’الف‘‘ کھڑی کھڑی نظر آتی ہے اور ’’ب‘‘ لیٹی لیٹی نظر آتی ہے۔

لیکن ’’ب‘‘ کو وصلی کہتے ہیں۔ وصلی کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک کو دوسرے کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس کے اندر جھکاؤ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی ایسے بندوں کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کے لیے قبول فرما کر اس کے فیض کو جاری فرما دیتے ہیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…