میانوالی کے علاقہ ’’واں بھچراں‘‘ میں ایک بزرگ گزرتے ہیں ان کا نام مولانا حسین علیؒ تھا، وہ بڑے ہی سادہ اور موحد آدمی تھے، ان کی سادگی کو دیکھ کر لوگ سمجھتے تھے کہ شاید کوئی دیہاتی بندہ ہے، ایک مرتبہ ملتان میں ایک جلسہ میں بیان ہونا تھا، اس جلسہ میں امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو بھی مدعو کیا گیا تھا، حضرت شاہ صاحبؒ کی وجہ سے مجمع بہت زیادہ تھا،
مسئلہ یہ بنا کہ جلسہ شروع ہونے کا وقت قریب تھا اور حضرت ابھی پہنچے بھی نہیں تھے، لوگ تلاش میں نکل کھڑے ہوئے کہ کیا ہوا، ہم نے حضرت کا استقبال کرنا تھا، لیکن وہ ابھی پہنچے ہی نہیں، تلاش کرتے ہوئے ایک مسجد میں گئے تو دیکھا کہ حضرت مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا حضرت! آپ کہاں سے آئے، ہم نے تو آپ کا استقبال کرنا تھا، فرمایا میں اسی لیے سادگی کے ساتھ آ گیا ہوں کہ میں استقبال کے قابل نہیں ہوں، جب حضرت بیان کے لیے بیٹھے تو خطبہ میں ارشاد فرمایا: یا ایھا الناس ضرب لکم مثل فاستمعوالہ (اے لوگوں تمہارے سامنے مثالیں بیان کی جاتی ہیں پس انہیں غور سے سنو) حضرتؒ نے ایسے درد دل سے یہ آیت پڑھی کہ مجمع کے ہر بندے کے دل میں توحید کا مزہ آ گیا، بعد میں حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنی پوری تقریر اسی آیت پر کی، فرمایا کہ دیکھو! اللہ والے ایک چھوٹی سی آیت پڑھتے ہیں اور مجمع کے دلوں کو تڑپا کے رکھ دیتے ہیں۔۔۔ سبحان اللہ! طبیعت میں تواضع دیکھو اور آگے فیض دیکھو۔ایک مرتبہ حضرت مرشد عالمؒ کی ملاقات قاری محمد طیب صاحبؒ سے ہوئی، حضرت قاری صاحب بہت بڑے عالم تھے، شکل و صورت کے اعتبار سے بھی بہت ہی خوبصورت، نفیس اور نازک بدن تھے،ہمارے حضرتؒ نے ان کو حرم میں دیکھا۔
ان کا چہرہ چمک رہا تھا، حضرت مرشد عالمؒ ان کودیکھ کر حیران ہوئے۔ حضرتؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ملنے کے بعد پوچھا، حضرت! آپ نے یہ چہرہ کیسے بنایا؟ جیسے ہی میں نے یہ سوال پوچھا، قاری صاحب فوراً کہنے لگے ’’یہ میں نے نہیں بنایا، بلکہ میرے شیخ نے بنایا ہے‘‘ دیکھیں، انہوں نے اس اچھائی کی نسبت اپنی طرف نہیں کی بلکہ اپنے شیخ کی طرف کی، یہ واضع ہے اگر کوئی اپنی طرف اچھائی کی نسبت کرے کہ میں نے یہ کیا۔۔۔ میرا تجربہ اتنا ہے۔۔۔ میں اتنا سمجھ دار ہوں تو بس پھر انسان خطرے میں ہوتا ہے۔



















































