(1)۔ آپؐ کے دادا عبدالمطلب تھے، انہیں آپؐ کے دادا ہونے کی سعادت حاصل تھی، عبدالمطلب بہت خوبصورت تھے، جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے کچھ بال پیدائشی طور پرسفید تھے اسی نسبت سے ان کا نام شیبہ رکھاگیاتھا، اللہ تعالیٰ کی شان کہ کچھ عرصے کے بعد ان کے والد وفات پا گئے، ان کی والدہ کا نام سلمی تھا، وہ مدینہ منورہ آ گئیں، بچہ اپنی والدہ کے پاس پرورش پاتا رہا حتیٰ کہ ابتدائی جوانی کی عمر کو پہنچا۔
مکہ مکرمہ کا رہنے والا ایک حارثی شخص کسی کام کے لیے مدینہ گیا تو اس نے چند لڑکوں کو تیر اندازی کا مقابلہ کرتے دیکھا ان میں سے ایک نوجوان جو دیکھنے میں بھی خوبصورت تھا اور جس کی شخصیت میں جاذبیت بھی تھی وہ جب بھی نشانہ لگاتا ٹھیک نشانے پر تیر لگتا، پھر وہ خوشی سے اشعار پڑھتا: لوگو! میں مکہ کے رہنے والے قبیلہ قریش کا فرزند ہوں، میرے نشانے ٹھیک لگتے ہیں، حارثی کو اس پر بڑا پیار آیا، چنانچہ اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایاگیا کہ یہ مکہ میں پیدا ہواتھا کچھ عرصے بعد اس کے والد فوت ہو گئے اوریہ اپنی والدہ کے ساتھ یہاں اپنے ننھیال آیا ہوا ہے، وہ ان کے سارے قبیلے والوں کو جانتا تھا، واپسی پر اس نے آ کر ان کے چچا (جن کا نام مطلب تھا) سے کہا کہ تم اتنے مہمان نواز ہو، اتنے سخی اور اتنے اچھے اخلاق والے ہو، کیا تمہیں پتہ نہیں کہ تمہارا بھیجا کتنی مشکل میں وقت گزار رہا ہے؟ اسے اپنے پاس لاؤ اور اس کی اچھی تربیت کرو۔اس شخص نے انہیں اتنا برانگیختہ کیا کہ اس نے قسم کھا لی کہ جب تک میں اپنے بھتیجے کو مکہ نہیں لاؤں گا اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، چنانچہ مطلب مدینہ آئے ان کی والدہ سے بات کی خاندان والو نے بھی ماں کو سمجھایا کہ بچہ بڑا ہو گیاہے، اگر یہ تمہارے پاس رہے گا تو صحیح معنوں میں عزت کا مقام نہیں پا سکے گا اور اگر وہ اپنے دادیہال میں چلا جائے گا تو ان کا بڑا قبیلہ ہے اور وہ اشراف ہے اس لیے وہاں اس کا نمایاں مقام ہو گا،
چنانچہ انہوں نے شیبہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔اب یہ خوبصورت نوجوان پیچھے بیٹھاہے اور اس کے چچا آگے بیٹھے ہیں، جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور کسی بندے نے دیکھا تو سمجھا کہ مطلب اپنے لیے غلام لائے ہیں، تو اس نے ان کو عبدالمطلب کہہ دیا، اس کے بعد یہ نام ایسا معروف ہوا کہ ان کو شیبہ کے بجائے عبدالمطلب کہا جانے لگا۔اس نوجوان کو اللہ رب العزت نے یتیمی کے دن تو دکھائے مشقتوں کے دن تو دکھائے مگر ان کے بعد ان کو انعام ملنا تھا۔۔۔انعام کیا ملا؟
ان کو خواب آیا کہ فلاں جگہ پر زمزم ہے اگر وہاں سے زمین کو کھودو تو بند چشمہ نکل آئے گا، ان دنوں مکہ مکرمہ میں پانی نہیں تھا، لوگوں کے لیے وہاں رہنا مشکل تھا، نہ جینے کو پانی نہ پینے کو پانی، چنانچہ عبدالمطلب نے زمین کی کھودائی شروع کر دی، وہ اکیلے ہی زمین کھوتے رہے، بالآخر وہ دن بھی آیا جب انہوں نے زمزم کے چشمے کے دہانے پر بڑی چٹان کو توڑا اور نیچے سے پانی نکل آیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عبدالمطلب کو بیت اللہ کا متولی بنا دیا۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیت اللہ کا متولی بنانا تھا اس لیے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو مشکل اور تنگی کے حالات دکھائے، یہ تربیت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے۔(2)۔ عبدالمطلب نے منت مانی کہ اگر میرے دس بیٹے ہوئے تو میں ان میں سے ایک کو اللہ کے نام پر قربان کر دوں گا، اللہ کی شان کہ دس بیٹے بھی مل گئے، اب انہوں نے سوچا کہ اپنی قسم پوری کروں، لیکن بیٹوں میں سے کس کو ذبح کروں؟ اس کے لیے قرعہ ڈالا،
قرعہ ان کے بیٹوں میں سے ایسے بیٹے کے نام یا جو بہت ہی خوبصورت تھا، اس کا نام عبداللہ تھا، لوگوں نے کہا: بھئی! بچے کو ذبح نہ کرو، بلکہ بچے اور اونٹوں کے درمیان تم قرعہ ڈال لو، چنانچہ انہوں نے بچے کے نام اور دس اونٹوں کے نام قرعہ ڈالا مگر قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔۔۔ پھر دس اونٹ اور بڑھا دیے، بیس اونٹ اور عبداللہ۔۔۔قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔۔۔ پھر تیس اونٹ اور عبداللہ۔۔۔ قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔۔۔ اونٹ بڑھتے گئے،
بڑھتے گئے، حتیٰ کہ جب سو اونٹوں کی تعداد رکھی گئی تو اب قرعہ اونٹوں کے نام آ نکلا، چنانچہ عبدالمطلب نے عبداللہ کے بدلے میں سو اونٹوں کو قربان کیا، اس لیے عبداللہ کو ذبیح اللہ بھی کہا جاتاہے کہ ان کو ان کے والد نے اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی نیت کی تھی۔ایک مرتبہ ایک بدو آیا، اس نے نبی کریمؐ سے کہا: یاابن ذبیحین۔۔۔ تو نبی کریمؐ مسکرائے اور فرمایا: ہاں! میں اسمعیلؑ کی اولاد میں سے ہوں اور وہ ذبیح اللہ تھے اور میں عبداللہ کا بیٹا ہوں اور عبداللہ بھی ذبیح اللہ تھے۔
حضرت عبداللہ جب جوان ہوئے تو ان کی جوانی اور خوبصورتی کو دیکھ کر لوگوں کو رشک آتا تھا، یہود نے اپنی کتابوں میں نشانیاں پائی تھیں، چنانچہ ان کو پتہ تھا کہ جو شخص نبی آخر الزمانؐ کا والد بنے گا، اس کی پیشانی پر نور چمکے گا، چنانچہ ان یہودیوں کی عورتیں بھی ایسے نوجوان کو تلاش کرتی تھیں۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ مکہ سے مدینہ جانے لگے، توراستے میں فاطمہ نامی عورت نے حضرت عبداللہ کے سامنے اپنے پ کو پیش کیا،
فرمایا: میں تو اس طرح نکاح نہیں کر سکتا، اس نے کہا: اگر نکاح نہیں کر سکتے تو ویسے ہی میرے ساتھ ملاقات کر لو، حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جو انسان کے لیے ذلت اور رسوائی کا سبب بنے اور واقعی جن پشتوں میں نبوت کا نور آگے منتقل ہوتاہے وہ کبھی زنا جیسے جرم کا ارتکاب نہیں کیا کرتیں۔۔۔ چنانچہ حضرت عبداللہ مدینہ پہنچ گئے۔مدینہ منورہ میں بنو زہراء نامی ایک قبیلہ تھا،
ان کی ایک جوان العمر لڑکی تھی جن کا نام آمنہ تھا، وہ بہت اچھے اخلاق والی، بہت ہی نیک تربیت والی اور نیک فطرت والی بچی تھی، شکل بھی تھی، عقل بھی تھی، نیک بھی تھی اورہر نعمت اس کے پاس تھی، چنانچہ اسے حضرت عبداللہ کے لیے پسند کیاگیا اور پھر ان کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔نکاح کے بعد جب حضرت عبداللہ واپس آئے تو یہی فاطمہ نامی عورت پھر حضرت عبداللہ کو دیک کر کہنے لگی: اب آپ کے چہرے پر وہ نور نظر نہیں آ رہا جو مجھے پہلے نظر آتا تھا،
حقیقت میں نبی رحمتؐ اپنے والد سے اپنی والدہ کے بطن میں منتقل ہو چکے تھے، اب دیکھئے! عبدالمطلب پر بھی امتحان آیا اور پھر حضرت عبداللہ پر بھی امتحان آیا۔(3)۔ شادی کے چند مہینوں کے بعد مکہ مکرمہ کا ایک قافلہ تجارت کے لیے بلد شام کی طرف گیا، حضرت عبداللہ بھی اس قافلے کے ساتھ گئے، اب شادی کے ابتدائی دنوں میں میاں بیوی میں جدائی دل کو بڑا اداس کرتی ہے تو بی بی آمنہ بھی بہت اداس ہوئیں، حضرت عبداللہ نے وعدہ کیاکہ اداس نہ ہو، میں جلدی آ جاؤں گا،
اورساتھ یہ بھی کہا کہ جب قافلے کے آنے کی گھنٹی بجے تو اس وقت تم دروازے پر آنا، میرا استقبال کرنا، میں بھی تمہی محبت سے ملوں گا، یہ وعدہ کرکے عبداللہ چلے گئے۔کچھ وقت بلادشام میں تجارت کے لیے گزارا، جب وہاں سے واپس تشریف لانے لگے تو مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ کو بخار ہوگیا، اور ایسے بیمار ہوئے کہ ان کے لیے سفر کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ مدینہ میں سسرال کے یہاں قیام کر لیا۔جب وہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا اور گھنٹی بجی تو بی بی آمنہ بہت خوش ہوئیں کہ میرے شوہر آ گئے،
چنانچہ دروازے پر آئیں، قافلے کے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے، مگر عبداللہ نہ آئے، بی بی آمنہ اور زیادہ پریشان ہوئیں، پتہ چلا کہ وہ بیمار ہیں اور مدینہ طیبہ میں ہیں، لہٰذا ان کے قریبی رشتہ دار مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، اللہ کی شان کہ رشتہ دار ابھی مدینہ پہنچے بھی نہیں تھے کہ حضرت عبداللہ اٹھارہ سال کی جوانی کی عمر میں اللہ کے پاس چلے گئے، بی بی آمنہ کی عمر تو اٹھارہ سال سے بھی کم ہو گی، اتنی چھوٹی عمر میں بی بی آمنہ بیوہ ہو گئیں، اب سوچیے کہ بی بی آمنہ پر کیا بیتی ہو گی۔



















































