ایک قوم گزری ہے، قوم سبا، یمن کے علاقہ میں تھی، ان کے بڑے باغات تھے، وہاں ایک بڑا ڈیم بنا ہوا تھا، اس میں اپنی اکٹھا کر لیا کرتے تھے اور پھرراستہ کے دونوں طرف جو باغات تھے اس میں پانی سیراب کرتے تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ اتنے بڑے باغات تھے کہ اگر کوئی بندہ ٹوکری لے کر جاتا تو اس سے پہلے کہ باغ ختم ہو، گرنے والے پھلوں سے ٹوکری بھر جاتی تھی، ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا باغ ہوگا، ایک مرتبہ ایک ملک میں جانا ہوا، ہاں کیلے کا باغ دیکھا، ماشاء اللہ چالیس میل لمبا، گاڑی بھاگ رہی ہے،
مگر باغ ختم نہیں ہوتا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا آج ایک بات میرے دل میں اچھی طرح کھل گئی کہ قوم سبا کے باغات کیسے ہوں گے؟ جس کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’قوم سبا کے لیے ان کے گھروں میں بڑی نشانیاں ہیں، راستے پردائیں بھی باغ اوربائیں بھی باغ، اللہ کادیا ہوا رزق کھاؤ اس کا شکر ادا کرو، کتنا پاکیزہ شہر ہے اور اللہ ان کی غلطیوں کو معاف کرنے والا ہے۔‘‘ (پ 22، ر 8، آیت 15) ہر طرف سے ان کے اوپر چین سکون، اطمینان تھا، مگر اللہ کی ان نعمتوں میں پڑ کر غافل بن گئے، اور نافرمانی کرنے لگے۔



















































