حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ کھانے کی میز پر میرے ساتھ ایک سرجن تھے جو ہارٹ اسپیشلسٹ تھے، ان کو دیکھا کہ وہ سبزی کھا رہے ہیں اور مرغا وغیرہ کئی چیزیں سامنے ہیں، صاحب خانہ نے کہا ڈاکٹر صاحب گوشت کھالیجئے،
بڑے اصرار پر انہوں نے تھوڑا سا گوشت لیا، ہم نے کہا جناب اور کھائیں، کہنے لگے میں سرجن ہوں، اور لوگوں کے دلوں کا آپریشن کرتا ہوں اوراس میں جمی ہوئی چربی دیکھتا ہوں، تو مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ گوشت کھانے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس لیے کھانے کی طبیعت نہیں ہوتی، اس دن مجھے خیال آیا کہ اس بندے پرچونکہ چربی دار کھانے اور چربی کا نقصان زیادہ واضح ہو چکا ہے، اس لیے اس کے لیے چربی اور گھی والے کھانے سے بچنا کوئی مشکل کام نہیں، اسی طرح جب عالم کے اوپر گناہوں کے نقصانات زیادہ کھل جاتے ہیں تو اس عالم کے لیے گناہوں سے بچنا کوئی مشکل کام نہیں رہتابلکہ آسان بن جاتا ہے، اس کے دل میں یہ ڈر ہوتاہے کہ قیامت کے دن کہیں رسوائی اور ذلت نہ ہو، اس لیے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی، اللّٰھم انی أسالک من خشیتک ما تحول بہ بینی و بین معصیتک اللہ رب العزت کاخوف بھی بہت بڑی نعمت ہے، ہم اللہ رب العزت سے یہ نعمت مانگیں، کہ اے رب کریم ہمیں اتنا خوف عطا کر دیجئے جو ہمیں گناہوں سے بچالے۔



















































