ٹراٹسکی انتہا پسند روسی انقلابی تھا جو اپنی خود نوشت ‘‘میری زندگی’’ میں لکھتا ہے کہ 1896 کے موسم خزاں میں، میں اپنے گاؤں گیا اور باپ سے میری عارضی صلح ہوگئی باپ مجھے انجینئر بنانا چاہتا تھا جب کہ میں ریاضی میں نام پیدا کرنا چاہتا تھا اس دوران انقلاب مجھ پر بتدریج قبضہ جما رہا تھا جب بھی میرے مستقبل کا سوال اٹھتا فیملی میں ایک بحران پیدا ہوجاتا ہر کوئی غم زدہ دکھائی دینے لگا
میری بڑی بہن شدت سے رونے لگتی اور کسی کو سمجھ نہ آتی کہ اسے کیسے چپ کرایا جائے میرا چچا جو انجینئر تھا اور اوڑیسہ میں ایک پلانٹ کا مالک تھا ان دنوں وہ ہمارے پاس آیا تھا اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اسے شہر میں آکر ملو ں یوں گھر کا بحران کچھ دنوں کے لئے ٹل گیا میں چند ہفتے اپنے چچا کے پاس رہا ہم مسلسل منافع اور قدر زائد پر بحث کرتے رہتے تھے میرا چچا اس موضوع کی تشریح کرنے کے بجائے منافع حاصل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتا تھا اس دوران میں نے ریاضی کے کورس میں اپنا نام یونیورسٹی میں رجسٹر کروانے کے لئے کچھ نہ کیا میں کسی امید پر اوڑیسہ میں ٹھہرا رہا آخر مجھے کس کی تلاش تھی ”اصل میں مجھے اپنی ہی تلاش تھی ”میں نے محنت کشوں سے آشنائی پیدا کی غیر قانونی لٹریچر حاصل کرتا رہا پرائیوٹ طلبا کو پڑ ھتا رہا تجارتی اسکول کے پرانے لڑکوں کو توہمات کے خلاف لیکچر دیتا رہا اور مارکسیوں سے بحث کے دوران میں اپنے پرانے نظریات پر قائم رہنے کی کوشش میں لگا رہا خزاں میں روانہ ہونے والے آخری سمسٹر سے میں نکولائی ثیف آگیا اور شیوگووسکی کے باغ کو دوبارہ اپنا ٹھکانہ بنا لیا پھر وہی پرانا دھندہ شروع ہوگیا ہم ترقی پسند رسالوں کے نئے شماروں پر بحث کرتے اور ڈارون ازم کو اپنی گفتگو کا موضوع بناتے رہے ہم مبہم طور پر کسی تباہی کا انتظار کر رہے تھے کونسی چیز ہمیں انقلابی پراپیگنڈا پر مجبور کر رہی تھی یہ بتانا مشکل تھا ہمارے اندر سے کوئی جذبہ ابھر رہا تھا
دانشوروں کے حلقے میں میرا آنا جانا تھا اس میں کسی نے بھی کوئی انقلابی کام نہیں کیا تھا ہمیں احساس ہوگیا کہ چائے کی میز پر ہماری گفتگو اور انقلابی کام کے درمیان بہت بڑی خلیج واقع تھی ہم جانتے تھے کہ محنت کشوں سے رابطہ قائم کرنے کیلئے انتہائی خفیہ طریقوں کی ضرورت تھی ہم نے حلف اٹھایا کہ ہم یہ کام بے حد پر اسرار طریقے سے کریں ہمیں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ہم چائے کی میز پر گفتگو کے ذریعے خفیہ طور پر آگے پڑھتے جائیں گے لیکن کسی کو یہ یقین نہیں تھا کہ تبدیلی کب آئے گی اپنی تاخیر کو چھپاتے ہوئے ہم ایک دوسرے سے تیاری کرنے کو کہتے رہتے ہم کچھ ایسے غلط بھی نہ تھے ”لوبیا کے دانوں کو لیو بہت پسند کرتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ پہلی مرتبہ کسی انقلابی محفل میں شریک ہوا تھا تو اس وقت اس نے اپنے نظریات کی وضاحت کے لئے لوبیا کا استعمال کرتے تھے مثلا وہ لوبیا سے بہت ساری ڈھیریاں بنا کے یہ کہا کرتے تھے کہ یہ زار روس ہے اور اس کے ارد گرد جو ڈھیریاں ہیں وہ اس کے مفادی ہیں اور ان ڈھیریوں سے ایک ڈھیری دور بنا کے اپنے دوستوں کو یہ کہا کرتے تھے کہ یہ جو لوبیا کی ایک ڈھیری باقی ڈھیریوں سے دور ہے یہ عوام ہے زار اور اس کے پالتو کتے عوام کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے اور ان کا ہر وقت استحصال کرتے رہتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان تمام ڈھیریوں کو ملاکے ایک بہت بڑا ڈھیر بنایا جائے یعنی دوسرے لفظوں میں ہم انسان کی تقسیم کے خلاف ہیں اور یہ تقسیم زاریت کا زہر ہے جس نے انسان کو انسان کا خدابنا دیا ”



















































