قیامت کے دن میری امت کے ایک بندے کو پیش کیا جائے گا، اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر ہوں گے ان میں سے ایک ایک دفتر اتنا بڑا ہو گا کہ جہاں تک نگاہ جائے گی وہ دفتر نظر آئے گا، اس سے یہ کہا جائے گا کہ یہ جو تیرے گناہ لکھے ہوئے ہیں ان کرتوتوں میں سے تو کسی کا انکار کرتا ہے؟
تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں انکار نہیں کرتا، میں نے خطائیں کی ہیں، اس سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اوپر میرے لکھنے والے فرشتوں نے کوئی ظلم کیا؟ (کیا کچھ زیادہ لکھ دیا ہے) وہ کہے گا: نہیں، اے پروردگار! نہیں، کہا جائے گا، کیا اللہ نے تیرے اوپر ظلم کیا؟ وہ بندہ اس بات کو سن کر ڈر جائے گا، وہ کہے گا: اے پروردگار، نہیں، آپ نے ظلم نہیں کیا (میں نے ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں ماری تھیں) اس سے کہا جائے گا، البتہ تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج کے دن تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر کلمۂ شہادت لکھا ہوگا، پھر وہ بندہ پوچھے گا: اے پروردگار! گناہوں کے اتنے دفتروں کے مقابلے میں یہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا کیا وقعت رکھتا ہے؟ اس سے کہا جائے گا، تمہارے اوپر ظلم نہیں کیا جائے گا، ایک پلڑے میں اس کے گناہوں کے ننانوے دفتروں کو رکھا جائے گا اورکاغذ کے اس ٹکڑے کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، گناہ ہلکے ہو جائیں گے اور وہ کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا، پھر اس سے کاہ جائے گا تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، کاغذا کا ٹکڑا اس لیے بھاری ہو جائے گا کہ اللہ کے نام سے کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔



















































