اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

نازی دور میں یہودی قتل عام پندرہ افراد کا فیصلہ تھا

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

دوسری عالمی جنگ کے دور میں جرمنی میں حکمران نازیوں نے جس طرح ہولوکاسٹ یا یہودی قتل عام کا ارتکاب کیا تھا، اس کا فیصلہ 20 جنوری 1942ء کو برلن میں جھیل وانزے کے کنارے ایک محل نما عمارت میں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں 15 نازی رہنماؤں نے اتفاق کیا تھا کہ وہ جسے ’یہودی مسئلہ‘ قرار دیتے تھے، اس کا ان کے نزدیک ’حتمی حل‘ یہ تھا کہ یورپ سے یہودیوں کو ختم ہی کر دیا جائے۔

اس موضوع پر مؤرخین کے مابین ابھی بھی بحث ہوتی ہے کہ آیا ہولوکاسٹ کا فیصلہ برلن میں انہی سوا درجن نازی رہنماؤں نے کیا تھا یا انہوں نے صرف اس فیصلے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا تھا، جو دراصل ان سے بھی بالائی سطح کی نازی قیادت نے کیا تھا۔ لیکن تاریخی طور پر برلن میں یہ فیصلہ اہم نازی رہنماؤں نے اپنے ایک ایسے اجلاس میں کیا، جو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، اور جس کے بعد اس فیصلے کی خوشی میں شیمپین بھی پی گئی، یہ بات اس لیے بھی کسی شک و شبے سے بالا تر ہے کہ اس کی تصدیق اس اجلاس میں شریک ایک نازی رہنما نے بعد میں خود بھی کی تھی۔ یہ شخصیت اڈولف آئشمان کی تھی، جو بیس جنوری 1942ء کے اس اجلاس کے شرکاء میں سے ایک تھا، اور جس نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے کئی برس بعد اسرائیل میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران یروشلم میں کہا تھا کہ برلن میں اس اجلاس کے شرکت کنندگان نے یہودی قتل عام کے حوالے سے منصوبے کے تمام پہلوؤں پر بحث کی تھی۔ اڈولف آئشمان کے یروشلم کی ایک عدالت میں دیے گئے بیانات کے مطابق اس اجلاس میں نازی دور میں مختلف جرمن وزارتوں کے اعلیٰ ترین اہلکار شریک ہوئے تھے اور انہیں اس اجلاس کی دعوت رائن ہارڈ ہائیڈرش نے دی تھی، جو اس دور کی جرمن ریاست کے سینٹرل سکیورٹی آفس کا سربراہ تھا۔ ہولوکاسٹ یا یہودی قتل عام کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ تب نازی قیادت نے یہ فیصلہ ’یہودی مسئلے کے حتمی حل‘ کے طور پر کیا تھا،

جس کے تحت یورپ میں کئی ملین یہودیوں کو ختم کرتے ہوئے ان کی نسل کشی کی حمایت کی گئی تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن 15 نازی رہنماؤں نے اس کانفرنس میں شرکت کی تھی، ان میں سے مئی 1945ء میں دوسری عالمی جنگ ختم ہونے تک چھ نازی رہنما خود بھی مارے جا چکے تھے یا انہوں نے خود کشی کر لی تھی۔ باقی ماندہ شرکت کنندگان میں سے پانچ پر دوسری عالمی جنگ کے بعد باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا تھا جبکہ اڈولف آئشمان وانزے نازی کانفرنس میں اہم کردار ادا کرنے والا وہ واحد رہنما تھا، جس پر اسرائیلی ریاست وجود میں آنے کے کئی برس بعد 1961ء میں یروشلم میں مقدمہ چلایا گیا۔ اور یکم جون 1961 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ نازی دور کی وانزے کانفرنس میں کیا جانے والا فیصلہ جس دستاویز میں تحریری طور پر محفوظ کر لیا گیا تھا، اس 15 صفحاتی دستاویز کو ’خفیہ رائش امور‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔ اڈولف آئشمان نے اس دستاویز کی 30 نقول بنوا کر مختلف نازی رہنماؤں کو بھجوائی تھیں۔ آج ان میں سے صرف ایک دستاویز باقی ہے، جسے مؤرخین اس کے مندرجات کی نسبت سے ’ہولوکاسٹ کے پروٹوکول‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ اس دور میں یورپ میں یہودیوں کی مجموعی آبادی 11 ملین کے قریب تھی۔ اڈولف آئشمان کے آخری الفاظ یہ تھے۔

Long live Germany. Long live Argentina. Long live Austria. These are the three countries with which I have been most connected and which I will not forget. I greet my wife, my family and my friends. I am ready. We’ll meet again soon, as is the fate of all men. I die believing in God

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…