کنگ کانگ کے نام سے اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں، ہٹلر کی پسندیدہ فلم کنگ کانگ 1933 میں بنائی گئی تھی۔ فولکر کوپ نامی مصنف نے اس بارے میں ایک بہت ہی جامع کتاب لکھی ہے، جس کا ٹائٹل ہے: ’ہٹلر کو ’کنگ کانگ‘ کیوں پسند تھی۔ یہ کتاب نازی جرمن رہنما اڈولف ہٹلر اور دیگر نازی رہنماؤں کی پسندیدہ فلموں کے بارے میں ہے۔
اس کتاب سے قاری کو پتہ چلتا ہے کہ ایک نئے میڈیم کے طور پر ہٹلر فلم سے کتنا متاثر تھا اور اپنے ابتدائی برسوں سے لیکر دوسری عالمی جنگ کے آغاز سے پہلے امن کے آخری دن تک اسے نئی فلمیں دیکھنے کا کتنا شوق تھا۔ اس کتاب کے مطابق، ’’ہٹلر کی پسندیدہ ترین فلموں میں سے ایک ’کنگ کانگ‘ بھی تھی، جس میں ایک بہت ہی عظیم الجثہ بن مانس ایک ایسی خاتون کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے، جو اپنی جسامت میں اس کی ایک بالشت کے برابر ہوتی ہے لیکن جس کا عشق کنگ کانگ کو تقریباﹰ دیوانہ بنا دیتا ہے۔‘‘فولکر کوپ لکھتے ہیں کہ ہٹلر کے ایک سابق قریبی معتمد ایرنسٹ ہانف شٹینگل کے مطابق اس نازی رہنما کو ہالی وُڈ کی فلمیں بہت پسند تھیں اور وہ انہیں اپنے نجی سینما گھر میں دیکھا کرتا تھا، خاص طور پر وہ فلمیں بھی، جن کا دیکھنا ہٹلر نے عام جرمنوں کے لیے یہ کہہ کر ممنوع قرار دے رکھا تھا کہ وہ جرمن ثقافتی میراث کا حصہ نہیں تھیں۔ 256 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مصنف فولکر کوپ ہٹلر کے اس رویے کو اس کے دوہرے اخلاقی معیارات کی بہت بڑی مثالوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ ہٹلر کو والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز کی تیار کردہ مکی ماؤس کے کردار والی فلمیں بھی بہت پسند تھیں، حالانکہ تب نازی دور میں عام جرمن شائقین کو مکی ماؤس کے کردار والی والٹ ڈزنی فلمیں دیکھنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ ہٹلر کو اس کے قریبی ساتھی بھی ہالی وُڈ کی ایسی فلمیں تحفے میں پیش کیا کرتے تھے۔
ہٹلر دور کے پراپیگنڈا وزیر جوزف گوئبلز نے ایک بار اس نازی رہنما کی سالگرہ کے موقع پر کہا تھا، ’’میں اپنے ’فیوہرر‘ (قائد) کو ان کی سالگرہ پر گزشتہ چار برسوں کے دوران بننے والی 30 کلاسیک فلمیں اور 18 مکی ماؤس فلمیں تحفے میں پیش کرتا ہوں۔ وہ اس پر بہت خوش ہیں کہ انہیں یہ ’خزانہ‘ ملا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ فلمیں ان کے لیے اچھی تفریح کا سبب بنیں گی اور وہ خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔



















































