ہمارے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ گزرے ہیں، ان کا نام خواجہ احرارؒ تھا، وہ سمر قند میں رہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنامال دیا کہ ان کے ساتھ ایک قافلہ چلتاتھا اور ان کے گھوڑوں کو باندھنے کے کھونٹے سونے اورچاندی کے بنے ہوتے تھے لیکن ان سب کے باوجود ان میں بے نفسی عروج پر تھی۔ایک مرتبہ جامیؒ ان سے ملنے گئے،
جب انہوں نے وہاں جا کر دیکھا کہ وہاں تو گھوڑے کے کھونٹے بھی سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں تو بڑے حیران ہوئے اور دور ہی سے ایک مصرعہ پڑھا:نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد۔(وہ مرد خدا نہیں ہوتا جو دنیا کو دوست رکھے)۔یہ مصرعہ کہہ کر واپس آ گئے اور راستے میں دوپہر کا وقت ہو گیا، انہوں نے ایک مسجد میں تھوڑی دیر کے لیے آرام کیا، تھوڑی دیر کے بعد ان پر غنودگی طاری ہوئی تو دیکھا کہ محشر کا میدان ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہے، ایسے وقت میں کچھ لوگ ایسے ہی جوان سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، اب مولانا پھنس گئے، وہ پریشان ہوکر سوچنے لگے کہ میرا کیا بنے گا، اتنے میں انہوں نے خواجہ عبیداللہ احرارؒ کو دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہیں اور ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے عقیدت مند ہیں، جب وہ قریب سے گزرے تو انہوں نے پوچھا: مولانا! کیاہوا؟ کہنے لگے: جی مجھے تو حساب لینے والے گھیر کے کھڑے ہیں اور میں اب بہت پریشان ہوں کہ ان کے حقوق کی ادائیگی کیسے کروں، انہوں نے کہا: اچھا اگر تمہارے پاس کمی ہے تو ہمارے حساب سے ان کا حق ادا کر دیا جائے، یہ بات کہہ کر وہ چلے گئے اور مولانا کی آنکھ کھل گئی۔اب مولانا کہ دل میں خیال آیا کہ لگتا ہے وہ حضرت دنیا کے ساتھ محبت کرنے والے نہیں، اس میں ضرور کچھ راز کی بات ہے لہٰذا مجھے دوبارہ واپس جانا چاہیے، انشاء اللہ مجھے ضرور فائدہ ہوگا،
چنانچہ وہ حضرت کے پاس واپس آ گئے، جب وہ آ کر ان سے ملے تو اللہ تعالیٰ نے حضرتؒ کے دل میں وہ بات ڈال دی جو یہ کہہ کر گئے تھے، لہٰذا حضرتؒ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور فرمایا: مولانا! آپ جو بات کہہ کر گئے تھے، ذرا وہ تو ہمیں سنا دو، عرض کیا، حضرت! نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں، حضرت نے اصرار کرتے ہوئے فرمایا کہ نہیں آپ وہ بات سنا دیں، اس پر انہوں نے عرض کیا، حضرت! میں نے یہ کہا تھا:’’نہ مرداست آں کہ دنیا دوست دارد‘‘حضرتؒ نے یہ مصرعہ بن کر شعر مکمل کر دیا اور فرمایا:’’اگر دارد برائے دوست دارد‘‘(اگر یہ دنیا ہو تو اللہ رب العزت کی رضا کے لیے ہونی چاہیے)



















































