حضرت اقدس تھانویؒ فراغت کے بعد جب ابتداء میں کانپور تشریف لے گئے تو وہاں قریب کے دیہاتوں میں کچھ اہل بدعت بھی تھے، حضرت نے ایک مرتبہ جلسہ رکھوایا اور اپنے استاد محترم حضرت شیخ الہندؒ کو بلوایا، چنانچہ حضرت شیخ الہندؒ تشریف لائے اور انہوں نے بیان کرنا شروع کر دیا، اللہ کی شان کہ حضرت اقدس تھانویؒ جو مضمون چاہتے تھے کہ یہ بیان ہو، وہی شروع ہوگیا۔
عین اس وقت جب مضمون اپنے عروج پر تھا اس وقت ایک عالم مولانا لطف اللہ علی گڑھی جو مائل بہ بدعت تھے، اس طرف تھوڑا سا میلان تھا، وہ آ گئے، اب ان کو دیکھ کرلوگوں نے یہ سوچا کہ اب وقت ہے یہ مضمون بیان ہونے کا، جیسے ہی وہ آ کر بیٹھے، حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا: ’’وما علینا الاالبلاغ‘‘ اور بیٹھ گئے، اب اس طرح ایک دم تقریر بند کر دینا بڑا عجیب سا لگا، خیر! بعد میں کھانے کے دسترخوان پرہی مولانا فخر الحسنؒ نے شیخ الہندؒ سے پوچھا: بھئی! وہ تو وقت تھا بیان کرنے کا، مولانا لطف اللہ آئے تھے تو آپ نے ایک دم ہی تقریر بند کردی، آپ نے فرمایا! ہاں مجھے بھی یہی خیال آ گیاتھا کہ اب وقت آیا ہے مضامین بیان کرنے کا، لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ اب میں اس کو سنانے کے لیے یہ بیان کرتا ہوں تو یہ اس کے لیے ہو گا اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہوگا، چنانچہ میں نے بیان بند کر دیا۔بیان میں بھی اس بات کا خیال ہوتا تھا کہ میری ہر بات اللہ کی رضا کے لیے ہو، اگر اس طرح کا اخلاص آ جائے تو دینی اداروں کے سب جھگڑے ختم ہو جائیں۔
ہمارے اکابر کے بارے میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے، ایک بزرگ گزرے ہیں، ان کا نام تھا ابو عمر نجیرؒ ، اللہ نے ان کو نیکی بھی دی تھی اور دنیا کا بڑا مال بھی دیا تھا،ایک مرتبہ حاکم وقت نے امیر لوگوں کی مجلس بلائی، کوئی رفاہی کام کرنا تھا تو اس کام کے لیے اس نے ان کو توجہ دلائی کہ آپ لوگ اگر تعاون کریں تو ہم یہ عوام کی سہولت کا رفاہی کام کر سکتے ہیں، ابو عمر نجیرؒ نے اس کو دولاکھ دینار دیے، جب دوسری مرتبہ میٹنگ ہوئی تو حاکم وقت نے ساری مجلس میں بتا دیا، ترغیب دینے کی خاطر کہ جی دیکھو! ابو عمر نجیر نے تو دو لاکھ دینار دیے ہیں،
جب اس نے یہ بات کہہ دی تھی تو تھوڑی دیر بعد ابوعمر ن جیر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے، بادشاہ سلامت، میں نے آپ کو وہ مال دے تو دیا مگر مجھے کسی سے مشورہ بھی کرنا تھا، وہ میں نے مشورہ نہیں کیا، لہٰذا آپ مہربانی فرمائیں کہ میرے دو لاکھ دینار مجھے واپس کر دیں، بادشاہ نے دیناروں کی تھیلی واپس کر دی، مجلس کے ہر بندے نے کہا کہ کیسا برا انسان ہے، دیے ہوئے پیس واپس مانگ لیے،
پھر جب مجلس ختم ہوئی تو تنہائی میں انہوں نے دو لاکھ دینار واپس بادشاہ کو دیتے ہوئے کہا: جناب آپ نے لوگوں کے سامنے ظاہر کرکے میرے عمل کو ضائع کیا تھا، میں نے واپس مانگ کر تھوڑی دیر کی ذلت تو اٹھا لی، اب آپ کو اللہ کی رضا کے لیے پھر دے رہا ہوں، اب اس کا تذکرہ کسی کے سامنے نہ کرنا۔ اللہ اکبر کبیرا!!!



















































