حضرت گنگوہیؒ کاایک واقعہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص ان کی خدمت میں آیا اورآ کر اپنی کوئی پریشانی کوئی گھریلو مسئلہ ان کی خدمت میں عرض کیا اورکہا کہ حضرت کوئی تعویذ بنا دیں تاکہ میری یہ پریشانی دور ہوجائے، حضرت نے انکار کیا کہ مجھے تعویذ بنانا نہیں آتا، اس آدمی نے اصرار کیا کہ نہیں حضرت ضرور بنا دیں، ادھر سے اصرار ادھر سے انکار،
جب کافی دیرانکار کے بعد وہ نہ مانا توحضرت نے ایک کاغذ پر تعویذ بناکر اسے دے دیا، وہ شخص تعویذ لے گیا استعمال کیا اللہ کے حکم سے اب اسے فائدہ ہوگیا، اب ایک دن اس کے دل میں خیال آیا کہ میں دیکھوں تو سہی تعویذ میں لکھا کیاتھا، اس نے کھول کر جو دیکھا تو لکھاتھا ’’یا اللہ! میں جانتا نہیں اوریہ مانتا نہیں‘‘ یہ ہوتی ہے کاملین کی برکت جب کوئی اللہ کا منظور نظر بن جاتا ہے تو پھر اس کی الٹی سیدھی ہو جاتی ہے۔حضرت بابوجی عبداللہؒ میرپور خاص کے بزرگ تھے، وہ ایک مستجاب الدعوات بزرگ تھے، جب ہم لوگ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو ان کی خدمت میں حاضر ہونے، ملنے اور بیٹھنے کا موقع نصیب ہوتاتھا، ہم نے ان کی عجیب بات دیکھی کہ جس بندے کے لیے بھی دعا مانگتے کہ اے اللہ! اس کو اپنے محبوبؐ کی زیارت نصیب فرما، اس بندے کو تین راتوں کے اندر اندر نبیؐ کی زیارت کا شرف حاصل ہو جاتاتھا، ہم نے خودکئی دفعہ اس بات کو آزمایا ہے۔ہمارے اس شہر کی تبلیغی جماعت کے ایک امیرتھے، ایک مرتبہ وہ فجر کے بعد تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں نے بہت وظیفے کیے اور درود شریف پڑھا مگر دل میں یہ تمنا ہے کہ نبی کریمؐ کی زیارت نصیب ہو، میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں،
شاید آپ نے بھی بزرگوں سے اس سلسلے میں کوئی عمل سنا ہو قدرتی بات ہے ان دنوں حضرت بابوجی عبداللہؒ تشریف لانے والے تھے۔چنانچہ ایک دن یہ عاجز ان کو لے کر ان کی محفل میں پہنچ گیا، محفل میں پہنچ گیا، محفل کے اختتام پر فقیر نے حضرت بابو جیؒ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت! یہ ہمارے مہربان ہیں اور ہمارے شہر کی جماعت کے امیر بھی ہیں، آپ ان کے لیے دعا فرما دیں کہ ان کو نبیؐ کی زیارت نصیب ہو جائے،
انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، مشکل سے آدھا منٹ لگا ہو گا اس کے بعد ہم واپس آ گئے۔دوسرے دن فجر کی نماز کے بعد کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو یہ عاجز باہر نکلا دیکھا تو وہ مولانا صاحب سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے، کہنے لگے مجھے آج رات اللہ رب العزت نے اپنے محبوبؐ کی زیارت نصیب فرما دی ہے۔اللہ رب العزت نے حضرت بابو جی عبداللہؒ کو ایک مقام دیاتھا، بس ان کے ہاتھ اٹھ جاتے تھے اور قدرت کی طرف سے فیصلے ہو جاتے تھے،
وہ مستجاب الدعوات بزرگوں میں سے تھے، جب کوئی قبولیت کا خاص لمحہ ہوتا تو آپ اپنے متوسلین کو آگاہ فرما دیا کرتے تھے حتیٰ کہ آپ رمضان المبارک میں کئی مرتبہ بلا کر بتاتے کہ آج لیلتہ القدر ہے، تم جو دعا مانگنا چاہو اپنے رب سے مانگ لو۔بڑھاپے کے دوران ایک دفعہ حضرت بابو جی عبداللہ کو بخار ہوگیا، یہ فقیر خدمت کے لیے حاضر تھا اللہ تعالیٰ نے پانچ دن تک صبح و شام ان کی خدمت کرنے کا موقع دیا،
پانچویں دن انہوں نے مجھے بلایا اور فرمانے لگے: ذوالفقار! میں نے کہا: جی حضرت! فرمانے لگے، اللہ سے مانگ لو جو مانگنا چاہتے ہو، انہوں نے بھی ہاتھ اٹھا دیے اور اس عاجز نے بھی ہاتھ اٹھائے، فقیر کو اس بات کا صحیح اندازہ تھا کہ یہ وقت بہت تھوڑا ہوتاہے، اس لیے اس فقیر نے جلدی جلدی میں دس دعائیں مانگی، ان میں سے بعض تو ایسی تھیں کہ جو سمجھ میں نہیں آتی تھیں کہ کیسے پوری ہوں گی،
اس لیے کہ عاجز اپنی اوقات ہی نہیں سمجھتا تھا، مگر الحمدللہ، اللہ رب العزت نے ان دس دعاؤں میں سے نو دعاؤں کو اپنی آنکھوں کے ساتھ دنیا میں پورا ہوتا دیکھنے کی توفیق عطا فرما دی، اور ایک دعا کے بارے میں دل کی تمنا ہے کہ انشاء اللہ اللہ تعالیٰ آخری وقت میں اس کوبھی پورا فرمادیں گے۔



















































