مشتری بھی بائع کا خیر خواہ ہوا کرتاتھا۔۔۔ ایک صحابیؓ گھوڑا خریدتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے وہ گھوڑا ایک ہزار درہم میں خریدا۔ اسے لے کر گھر آئے، انہوں نے اسے باندھ دیا۔ اگلے دن ان کے ایک دوست آئے۔ انہوں نے اپنے دوست سے کہا: میں نے یہ گھوڑا خریدا ہے۔ دوست نے دیکھ کر کہا: جی یہ تو بہت اچھا گھوڑا ہے، لگتا ہے کہ یہ تو پندرہ سودرہم کا ہوگا۔
جب اس نے یہ ویلیو ایشن دی کہ یہ پندرہ سو درہم کا ہو گا تو وہ اگلے دن پانچ سو درہم اور لے کر گھوڑا بیچنے والے کے پاس گئے اور کہا:’’جی آپ یہ پانچ سو درہم اور لے لیجئے وہ آپ کی چیز تھی اور آپ کو اس کی ویلیو کا اندازہ نہیں تھا۔ ایک تھرڈ پرسن (تیسرے بندے) نے اس کو Evaluate (پرکھا) کیا ہے کہ یہ پندرہ سو درہم کا ہے لہٰذا میں آپ کو پانچ سو درہم دینے کے لیے آیا ہوں، میں آپ کے ساتھ بدخواہی نہیں کر سکتا۔‘‘حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے ایک واقف کار تھے جو انگلینڈ میں رہتے تھے، یہاں سے ان کے ماموں ان سے ملنے کے لیے گئے۔ ان کے یہاں آموں کے باغات تھے۔ جب جانے لگے تو والدہ نے پھلوں کی ایک ٹوکری دی اور کہا کہ میرے بیٹے کو اپنے باغ کے پھل دینا۔۔۔ ماں ایسی ہستی ہے کہ جب تک وہ اپنے ہاتھ سے کھانے کی چیز نہ دے اسے تسلی ہی نہیں ہوتی۔۔۔ چنانچہ ان کے ماموں پھلوں کی ٹوکری لے کر ان کے پاس گئے اور کہا کہ یہ تحفہ تمہاری امی نے تمہارے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے خود بھی آم کھائے اور کچھ آم دائیں طرف والے پڑوسیوں کو بھیج دیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پردستک ہوئی،دروازے پر جا کر دیکھا تو دونوں طرف کے پڑوسی موجود تھے۔ پوچھا: آپ لوگ کیسے آئے؟ انہوں نے کہا،
مسٹر احمد، آپ نے جوآم بھیجے وہ بہت ہی مزے دار تھے۔ ہم نے بہت انجوائے کیا، لیکن آپ نے ہمیں بتایا ہی نہیں کہ ان کی پرائس کتنی تھی؟ آپ ہمیں بل دیں تاکہ ہم آپ کو پے کریں۔۔۔ اب اس معاشرے کے لوگ حیران! جب کوئی اللہ کی رضا کے لیے کسی کو گفٹ دے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اگر وہ گفٹ بھی کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے، انہیں ایک دوسرے کو بے مقصد گفٹ دینا سمجھ میں نہیں آتا۔



















































