اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسی دام میں مل جائے گی

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

جس زمانے میں بغداد مسلمانوں کا مرکز تھا، اس وقت کافروں نے ایک نوجوان کو بغداد میں بھیجا کہ ذرا مسلمانوں کے ماحول معاشرے کا پتہ کرکے آؤ کہ ان کے اندر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے یہ پوری دنیا میں غالب آتے جا رہے ہیں؟ جب وہ بغداد میں پہنچا تو اس وقت وہ تھکا ہوا بھی تھا اور اسے بھوک بھی لگی ہوئی تھی، چنانچہ اس نے سوچا کہ میں ہوٹل سے کھانا کھا لیتا ہوں، وہ ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے گیا،

جب وہ کھانا کھا رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ کوئی دوسرا بندہ اس کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے، یہ سمجھا کہ میں اس کے لیے پردیسی اور اجنبی ہوں، شاید اسی وجہ سے مجھے بار بار دیکھ رہا ہے، جب وہ کھانا کھانے کے بعد پیسے ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر آیا تو کاؤنٹر والے نے کہا: جناب! آپ کی پیمنٹ ہو چکی ہے، اس نے پوچھا:جی! میری پیمنٹ کیسے ہو چکی ہے؟ اس نے کہا: آپ کے سامنے ایک مسلمان بیٹھا تھا، اس نے دیکھا کہ آپ پردیسی ہیں، وہ اپنے پیسے بھی دے گیا اور یہ کہہ کر گیا کہ یہ بھائی آج میرا مہمان ہے، لہٰذا اس کے پیسے بھی میں ادا کرتا ہوں، چنانچہ وہ آپ کی پیمنٹ بھی کرکے چلا گیا، اور اس کو اتنی طمع بھی نہیں تھی کہ وہ آپ کو اطلاع دیتا اورآپ کی زبان سے شکریہ کا لفظ سن لیتا، یہ سن کر وہ حیران ہوا کہ مسلمان ایسے لوگ ہوتے ہیں۔اس کے بعد وہ آگے بڑھا ایک دکان پر اسے کوئی چیز خریدنی تھی، چنانچہ اس نے دکاندار سے پوچھا: کہ آپ کے پاس فلاں چیز موجود ہے؟دکان دار نے کہا: ہاں موجود ہے۔اس نے پوچھا: اس کی قیمت کتنی ہے؟دکاندار نے کہا: اتنی اس نے کہا: اچھا! آپ مجھے ایک عدد دے دیجئے۔دکان دار نے کہا: جناب! آپ میری ایک بات مان لیجئے کہ یہی چیز آپ کو سامنے والی دکان سے اسی دام میں مل جائے گی، آپ وہاں سے خرید لیں۔چنانچہ یہ وہاں پہنچا اور اسے وہی چیز اتنے ہی دام میں وہاں سے مل گئی،

مگر اس کے دل میں خلش پیدا ہوئی کہ پہلے دکان دار نے انکار کیوں کیا؟ لہٰذا وہ لوٹ کر پہلے کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا: جناب کیا آپ کے پاس یہ چیز موجود نہیں تھی، یا آپ دینا نہیں چاہتے تھے؟دکان دار نے کہا: جناب میرے پاس یہ چیز موجودتھی، میں نے سوچا کہ آج میرے پاس اتنے گاہک آ چکے ہیں کہ میرے بیوی بچوں کا گزارا اچھا ہو جائے گا،میں نے دیکھا کہ میرے سامنے والے بھائی کے پاس آج تھوڑے گاہک آئے ہیں، میں نے سوچا کہ اگر آپ اس سے کوئی چیز خرید لیں گے تو اسے بچت ہو جائے گی اور آج رات اس کے بیوی بچوں کا گزارا ہو جائے گا۔ایک وقت تھا دکان دار ایک دوسرے کے اتنے خیر خواہ ہوتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…