ایک نوجوان کسب حلال کے لیے کسی دوسرے شہر میں گیا، ایک دن چھٹی تھی، چنانچہ اس نے سوچا کہ آج میں شکار کرتا ہوں لہذا وہ پرندوں کا شکار کرنے کے لیے نکلا، اللہ کی شان کہ جب اس نے ایک پرندے کی طرف تیر پھینکا تو نشانہ خطا ہوا اور وہ تیر ایک کھیلتے ہوئے عیسائی لڑکے کو جا لگا ، جیسے ہی اسے تیر لگا اس کی یہیں ڈیتھ ہو گئی۔وہ نوجوان بچے کو اٹھانے کے لیے بھاگا، اتنے میں بچے کے والدین بھی آ گئے،
اس نے بتایا کہ میں نے ارادتاً تو ایسا نہیں کیا، میں نے تو اپنی طرف سے پرندے کو تیر مارا تھا، مگر نشانہ خطا ہو گیا، آگے یہ کھیل رہا تھا اور تیر اسے لگ گیا، اس بچے کے رشتہ داروں نے اس کے والدین سے یہ کہا ہمیں تو نہیں پتہ کہ اس نے ارادتاً تیر مارا ہے یا غلطی سے لگا ہے، چنانچہ انہوں نے بچے کے والدین کو مشورہ دیا کہ اس پر مقدمہ کر دیا جائے، قاضی مسلمان ہے، لہٰذا ہمیں توقع ہے کہ جو حقیقت ہے وہ کھل جائے گی، ہمیں انصاف ملے گا چنانچہ اس نوجوان پر مقدمہ کردیا گیا۔جب نوجوان کو قاضی کے سامنے پیش کیا تو قاضی نے پوچھا: کیا ایسا واقعہ ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ہوا ہے، قاضی نے کہا، پھر دو میں سے کوئی ایک بات اختیار کر لو، یا تو اس کے ورثاء کو راضی کر لو اور اگر راضی نہیں ہوتے ہیں تو پھر۔۔۔ (جان کے بدلے جان)۔۔۔ کہ مصداق تمہیں پھانسی دی جائے گی، چنانچہ اس نوجوان نے اس بچے کے والدین کو راضی کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی صورت پر راضی ہو ہی نہیں رہے تھے، لہٰذا قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اس کو جیل میں بھیج دیا جائے اور اگلے جمعہ کو جب نماز جمعہ پڑھ کر سزائیں دی جائیں گی تو اس کی سزا کا فیصلہ بھی سنا دیا جائے گا، چنانچہ اس نوجوان کو جیل بھیج دیا گیا۔جیل کا سپرنٹنڈنٹ عیسائی تھا، اس نوجوان نے اس سے رابطہ کیا اور کہنے لگا: میں مسلمان ہوں مجھ سے یہ معاملہ ہوا ہے اور میرے پیچھے میرا خاندان بھی ہے،
بچے بھی ہیں اور ان کو میرے اس معاملے کا پتہ نہیں، اگر آپ مجھے اپنی ذمہ داری پر رہا کر دیں تو جمعہ سے پہلے واپس آ جاؤں گا۔۔۔ عیسائیوں کے دلوں میں اس زمانے میں مسلمانوں کے ایفائے عہد کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ وہ عیسائی کہنے لگا: ٹھیک ہے تم چلے جاؤ اور جمعہ سے پہلے آ جانا، اس نے قتل کے مجرم کو جیل سے گھر بھیج دیا۔جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد جب قاضی نے پوچھا: فلاں بندہ کہاں ہے؟
جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ میں نے اسے اپنی ذمہ داری پہ بھیجا تھا مگر ابھی تک وہ آیا نہیں، قاضی نے کہا: ٹھیک ہے، باقی مقدمات نمٹنے تک ہم انتظار کریں گے اور اگر اس وقت تک بھی وہ نہ آیا تو اس نوجوان کے بدلے میں ہم آپ کو پھانسی دیں گے کیونکہ آپ نے اس کو چھوڑا تھا۔اب عیسائی اور زیادہ پریشان ہوئے کہ بندہ بھی ہمارا مرا، اور اب افسر بھی ہمارا پھانسی پر چڑھ جائے گا،
اس دوران قاضی دوسروں کے مقدمات سمیٹنے میں لگ گیا، جب آخری بندہ نمٹ گیا تو قاضی نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو بلایا اور کہا کہ اب ہم یہ حد آپ پر قائم کریں گے، یہ بات سننے کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ کے چہرے پر پریشانی کے آثار بالکل نہیں تھے، چنانچہ وہ آرام سے قاضی کے قریب آ گیا، لوگ حیران تھے کہ آج یہ کیا ہو رہا ہے۔ اتنے میں کسی نے کہا جی آپ تھوڑی دیر کے لیے انتظار کر لیں کہ دور سے کوئی آدمی آتا نظر آ رہا ہے،
قاضی نے کہا ٹھیک ہے، چند منٹ انتظار کر لیتے ہیں، چنانچہ چند منٹ کے اندر وہی نوجوان دوڑتا ہوا آیا وہ پسینے میں شرابور تھا، اس نے آتے ہی سب سے پہلے اس جیل سپرنٹنڈنٹ سے معافی مانگی اور کہا کہ میرے راستے میں ایک دریا تھا مجھے تیرنا نہیں آتا تھا اور مجھے کشتی کے انتظار میں دیرہو گئی، جس کی وجہ سے میں اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر سکا۔ ورنہ میں وقت سے پہلے پہنچ جاتا، بہرحال اب میں پہنچ چکا ہوں،
مجھے قاضی صاحب کے سامنے پیش کر دیں، جب عیسائیوں نے اس نوجوان کی ایفائے عہد کی یہ بات سنی تو بچے کے ورثاء نے قاضی سے کہا: قاضی صاحب! اس نوجوان نے اگر عہد پورا کرنے کی یہ مثال پیش کر دی ہے تو ہم آپ کی موجودگی میں دو باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔ ایک تو بچے کے قتل کا مقدمہ واپس لیتے ہیں۔۔۔۔ دوسرا اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ایک وہ وقت تھا کہ کافر ہمارے عملوں کو دیکھ کر مسلمان ہو جاتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ حقیقی معنوں میں مسلمان ہیں۔



















































