ایک شخص دیہات سے آئے، مسلمان ہوئے، محفل میں بیٹھے۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد جب مجلس برخاست ہوئی تو ان کو پیشاب کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ جو اٹھے اور مسجد نبویؐ کے ساتھ خالی جگہ پر، جو کہ مسجد ہی کا حصہ تھا، پیشاب کرنے بیٹھ گئے۔ عام طور پر باہر دیہاتوں میں لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، صحابہؓ نے دیکھا تو انہوں نے اس کو منع کرنے کی کوشش کی مگر نبی کریمؐ نے ان کو منع کر دیا کہ اسے کچھ نہ کہو۔
جب وہ فارغ ہو گئے تو نبی کریمؐ نے ان کو بلایا اور محبت کے ساتھ پاس بٹھا کر فرمایا: دیکھو! مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ عظیم ہیں، بڑے ہیں، اس کے گھر کو پاک رکھنا چاہیے اور گندگی سے بچانا چاہیے۔اتنے پیارے انداز سے سمجھایا کہ اس کے خانے میں بات بیٹھ گئی۔ وہ صحابیؓ بڑے خوش ہوئے اور حیران بھی ہوئے کہ مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہوئی لیکن انہوں نے نہ مجھے طعنہ دیا، نہ شرمندہ کیا اور نہ انہوں نے مجھے ڈانٹا بلکہ مجھے اچھے اخلاق سے بات سمجھائی، جب وہ جانے لگے تو نبی کریمؐ نے ان کو کچھ کپڑے ہدیہ اور تحفہ میں دے دیے، جب نبی کریمؐ نے دیکھا کہ یہ پیدل جا رہے ہیں تو آپؐ کے پاس ایک سواری تھی، وہ سواری بھی آپؐ نے اسے ہدیہ میں دے دی، جب انہیں کپڑے بھی مل گئے اور سواری بھی مل گئی تو وہ بڑے حیران ہوئے۔ انہوں نے کپڑے پہن لیے اور سواری پر بیٹھ گئے اور اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ جب وہ اپنی بستی میں داخل ہونے لگے تو دور سے اونچی اونچی آواز سے پکارنے لگے۔۔۔ اے میرے چچا!۔۔۔ اے میرے ماموں!۔۔۔ اے فلاں، اے فلاں، لوگوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اتنی اونچی اونچی چیخ لگا رہا ہے۔ کہنے لگا کہ میں ایک ایسے معلم کو دیکھ کر آیا ہوں کہ میں نے تو زندگی میں کبھی ایسی شخصیت نہیں دیکھی۔ میں نے اتنی بڑی غلطی کی لیکن انہوں نے میرے ساتھ اتنا پیار کا سلوک کیا۔۔۔ مجھے معاف بھی کر دیا،
کپڑے بھی دیے اور سواری بھی دی۔ دیکھو! کیسے اخلاق تھے ان کے۔ جب بستی والوں نے یہ سنا تو کہنے لگے، اچھا! اگر اتنے اچھے اخلاق والے ہیں تو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے۔ اس بستی سے تین سو آدمی ان کے ساتھ نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورسب نے آ کر کلمہ پڑھ لیا۔ یوں نبی کریمؐ نے دل جیتے تھے۔۔۔ اور یوں اسلام پھیلا۔



















































