ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حج پر گئے ہوئے تھے ایک جگہ جا رہے تھے، ان کا تھیلا ان کے ہاتھ میں تھا ایک نوجوان آیا اور ان سے ان کا تھیلا چھینا اور بھاگ گیا ذرا آگے گیا تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا جیسے بینائی چلی گئی، اس نے رونا شروع کر دیا، لوگوں نے پوچھا: کیوں روتے ہو؟
کہنے لگا: میں نے فلاں جگہ پر ایک بوڑھے میاں کا تھیلا چھینا ہے اور مجھے لگتا ہے وہ کوئی مقبول بندے تھے کہ میری بینائی چلی گئی، مجھے ان کے پاس لے چلو، میں ان سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔چنانچہ لوگ اس کو اس جگہ پر لے گئے، وہاں وہ بڑے میاں نہیں تھے، قریب ہی ایک حجام تھا، اس سے پوچھا تو کہا کہ وہ نماز پڑھنے آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں، آپ اگلی نماز تک انتظار کریں، میں نشاندہی کر دوں گا۔اگلی نماز تک وہ بزرگ آ گئے، اس حجام نے ان کی نشاندہی کر دی، اب وہ نوجوان ان سے معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا: حضرت! آپ مجھے معاف کر دیں، مجھ سے غلطی ہو گئی، میں بڑا شرمندہ ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اب وہ فرمانے لگے کہ میں نے تو آپ کو اسی وقت معاف کر دیا تھا، جب بار بار اس نے معافی مانگی اور بار بار انہوں نے کہا کہ میں نے تو اسی وقت آپ کو معاف کر دیا تھا تو لوگ بڑے حیران ہو گئے، کسی نے پوچھا: حضرت! اس نے آپ کا تھیلا چھینا اور آپ کہتے ہیں کہ میں نے اسی وقت معاف کر دیا تھا! وہ بزرگ کہنے لگے: ہاں مجھے ایک خیال آ گیا تھا جس کی وجہ سے میں نے معاف کر دیا تھا، پوچھا! کیا خیال آ گیا تھا؟اس نے کہا کہ میں نے علماء سے مسئلہ سنا ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری امت کو حساب کتاب کے لیے پیش کیا جائے گا جب تک پوری امت کا حساب و کتاب پورا نہ ہو جائے گا میں اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھوں گا،
میرے دل میں خیال آیا کہ اس نے میرا تھیلا چھینا، اگر میں نے معاف نہ کیا تو قیامت کے دن میرا یہ مقدمہ پیش ہو گا اور جتنی دیر اس مقدمے کے فیصلے میں لگے گی، میرے محبوبؐ کو جنت میں جانے میں اتنی دیر ہو جائے گی، میں نے معاف کر دیا کہ نہ مقدمہ پیش ہوگا اور نہ میرے محبوبؐ کوجنت میں جانے میں دیر لگے گی۔کاش! ہمیں بھی اس نسبت کا لحاظ ہوتا اور ہم بھی اپنے جھگڑے سمیٹ لیتے، ہم نے آج زندگی کے اندر کتنے معاملات کو بکھیرا ہوا ہے! ہم بھی اس نسبت کی لاج رکھیں یہ نسبت بڑی عجیب ہے۔



















































