اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

گناہ جوانی میں کیے

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بیوی کو ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایک صاحب نے نو سال تک اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے گھر نہیں جانے دیا۔ خود سال میں دو مرتبہ اپنے والدین کو ملنے کے لیے جاتا تھا، لڑکی کے والد حج کے موقع پر مجھے ملے، ان کی آنکھوں سے اتنے موٹے موٹے آنسو ٹپک رہے تھے،

وہ کہنے لگے کہ نو سال سے ہم اپنی بیٹی کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔جب ان سے پوچھا: کیوں نہیں جانے دیتے؟ تو جواب دیا کہ بس میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ یہیں رہے۔ اس کو اس طرح باندھ کے رکھنے کا کوئی شرعی حق ہے تمہارا؟ خود سال میں ماں باپ کا خیال کرنے کے لیے دو چکر اور بیوی کو نو سال میں ایک دفعہ بھی نہیں جانے دیا، خود ہر تیسرے دن ماں باپ کو فون کرتے ہیں اور بیوی کو نو سال میں ایک مرتبہ بھی فون نہیں کرنے دیا۔ یہ دین دار لوگوں کا حال ہے، ہم فاسق و فاجر کی کیا بات کریں؟ صوفی صاحب کی زندگی کا یہ حال ہے، کیا یہ عورت قیامت کے دن اپنے حق کا مطالبہ نہیں کرے گی؟ پھر سمجھ لگ جائے گی، بعض لوگ تو ایسے خاوند کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بڑا اچھا خاوند ہے جو بیوی پر حاوی ہے، نہیں یہ تو سراسر ظلم ہے۔حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک آدمی کو دیکھا اپنی زندگی میں بڑا افسر تھا، اس نے ساری زندگی اپنی بیوی کو بہت دبا کر رکھا، بچے اس کے پڑھ لکھ کر بڑے افسر بن گئے، انہوں نے ماں کو دیکھا کہ اس نے بہت مظلومیت کا وقت گزارا ہے، وہ سارے ماں کے ساتھ ہو گئے،اب ادھر یہ صاحب بوڑھے ہو گئے تو ایک دن بیوی نے کہا کہ جناب گھر پر سے چھٹی، بیٹوں نے بھی کہہ دیا جو امی کہہ رہی ہیں، وہی ہوگا،

اب تک آپ نے جو مرضی آئی وہ کیا، اب امی کی مرضی چلے گی، گھر سے اس کو نکال دیا گیا، کچھ دن وہ مسجد میں رہا نہ کوئی اس کا کھانا پکانے والا؟ نہ کوئی اس کو پاس بٹھانے والا، اتنا اس کا بڑھاپا خراب ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہم کانپا کرتے تھے، اسے دیکھ کر، دھکے کھاتا تھا، روتا تھا بیٹھ بیٹھ کر، گناہ جوانی میں کیے اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا بڑھاپے میں دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…