نبی رحمتؐ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس سے بھی بڑھ کر رحیم و کریم تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: ’’اگر میں کبھی کسی بات پر غصے میں آ جاتی تو نبی کریمؐ مسکرا کر میری طرف دیکھتے اور فرماتے: اے مُنی سی عائشہ!‘‘عمر تھوڑی تھی اس لیے فرماتے ’’اے مُنی سی عائشہ!‘‘۔ اب دیکھیے کہ اس ایک لفظ میں کتنے پیار کا مسیج ہے جو بیوی کو پہنچ رہا ہے۔
ایک مرتبہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کسی بات پر نبی کریمؐ سے گفتگو کر رہی تھیں، سیدنا صدیق اکبرؓ بھی تشریف لے آئے۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر! ہمارے درمیان فیصلہ کر دو۔ انہوں نے کہا: بہت اچھا، معاملہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! تم بتاؤ گی یا میں بتاؤں؟ انہوں نے کہا کہ آپ ہی بتائیں، مگر ٹھیک ٹھیک بتائیں، بیوی کا آخر ناز کا تعلق ہوتا ہے۔ جیسے ہی انہوں نے کہا کہ آپ ہی بتائیں مگر ٹھیک ٹھیک بتائیں تو سیدنا صدیق اکبرؓ کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے سیدہ عائشہؓ کو ایک تھپڑ لگانے کا ارادہ کیا اور کہا، تجھے تیری ماں روئے، کیا نبی کریمؐ ٹھیک ٹھیک نہیں بتائیں گے؟ جب تھپڑ لگا تو سیدہ عائشہؓ نبی کریمؐ کے پیچھے آ کر چھپ گئیں تاکہ ابو سے دوسرا تھپڑ نہ پڑ جائے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ابوبکر! ہم نے آپ سے فیصلہ کروانا تھا، کسی کو سزا تو نہیں دلوانی تھی۔ اچھا آپ جائیں ہم اپنا فیصلہ خود کر لیتے ہیں۔ صدیق اکبرؓ چلے گئے اور نبی کریمؐ نے سیدہ عائشہؓ کی طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: ’’دیکھا! تجھے میں نے بچایا ہے نا۔‘‘بس اتنی سی بات سے آپس کی بات ختم ہو گئی۔



















































