*۔۔۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ایاز کی شکایت کی کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت! ہم تو پہلے ہی سے کہتے تھے کہ یہ ٹھیک آدمی نہیں ہے اور اب تو یہ ثابت ہو چکا، ہمارے پاس پروف ہے، بادشاہ نے پوچھا کہ کیا پروف ہے؟ کہنے لگا بادشاہ سلامت! ایک الماری اس نے بنائی ہے، جسے تالا لگا کر رکھتا ہے، روزانہ اس کو کھول کر دیکھتا ہے، کسی دوسرے بندے کو چابی نہیں دیتا، خود جب کھولتا ہے تو اس وقت اکیلا ہوتا ہے،
میرا پکا گمان یہ ہے کہ اس نے آپ کے خزانے سے کچھ چرایا ہے، اور وہ ہیرے موتی اس الماری میں رکھے ہوئے ہے، ٹھیک آدمی نہیں ہے۔بادشاہ نے ایاز کو بلایا اور کہا، کیا تمہاری ایسی کوئی الماری ہے؟ اس نے کہا جی ہے، اس کی چابی ہے؟ جی ہے، بادشاہ نے کہا لاؤ، وہیں کھڑے کھڑے بادشاہ نے اس سے چابی لی، اور معترضین کو کہا کہ جاؤ اس کے اندر جو کچھ ہے لے کر آؤ، اعتراض کرنے والے بڑے خوش کہ آج اس کا پول کھلے گا، اس کے اندر جو خزانہ جمع کیا ہے آج بادشاہ کو پتہ چل جائے گا، تھوڑی دیر کے بعد وہ آدمی وہاں سے دو چیزیں لے کر آیا ایک بوسیدہ سا لباس، اور ایک پرانا جوتا، بادشاہ نے کہا اس الماری میں اور کچھ نہیں؟ اس نے کہا اس میں اورکچھ نہیں، بادشاہ نے کہا ایاز! تم نے یہ رکھا ہوا ہے، جی بادشاہ سلامت، میں نے الماری میں یہی چیزیں رکھی ہیں، کیا تم روز دیکھتے ہو، جی روز دیکھتا ہوں، کیا وجہ ہے؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت! جب میں پہلے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا یہ میرا لباس اور یہ میرا جوتا تھا، آپ نے مجھے اپنے قریب کر لیا، میں نے اپنے نفس کو اپنی اوقات یاد دلانے کے لیے ان چیزوں کو سلامت رکھا ہے، روز دیکھتا ہوں اور اپنے نفس سے کہتا ہوں ایاز دھوکے میں نہ پڑنا، تیری اوقات یہ تھی، اب جو کچھ تیرے پاس ہے تیرے اوپر بادشاہ کی عنایت ہے۔کاش کہ ہم اپنے پروردگار کی ان نعمتوں کا شکر ادا کریں،
کیا ہم اس دنیا میں سب کچھ لے کر آئے تھے، نہیں بلکہ جب آئے تھے تو کچھ نہیں تھا، بدن پر کپڑے نہیں تھے، گھر نہیں تھا، اولاد نہیں تھی، عقل پوری نہیں تھی، کچھ نہیں تھا، جو دیا میرے پروردگار نے دیا، جس پروردگار نے اتنی نعمتیں دیں ہم اس پروردگار کے حکم کو سن کر اس کو توڑتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم نے کس کے حکم کو توڑا ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔



















































