ہارون رشید کو پیاس لگی اس نے پانی مانگا، ٹھنڈا پانی لایا گیا، عارف باللہ حضرت ابن سماکؒ وہاں موجود تھے، وہ کہنے لگے ہارون پانی پینے سے پہلے میری بات سننا پوچھا بتائیے، کہنے لگے یہ بتائیں اگر آپ کو سخت پیاس لگ جائے اور پیاس ایسی کہ برداشت سے باہر،
حلق بالکل خشک ہو اور پوری دنیا میں پانی کہیں بھی نہ ہو اور ایک شخص کے ہاتھ میں پانی کا پیالہ ہو تو آپ بتائیں کہ کتنی قیمت دے کر اس پانی کے پیالے کو خریدیں گے، اس نے کہا کہ آدھی سلطنت دے دوں گا اور پانی کا پیالہ خرید کر پیؤں گا۔ انہوں نے کہا اچھا آپ نے پانی پی لیا، اور پینے کے بعد اگر پیشاب بند ہو گیا، نکلتا نہیں، اور جانتے ہیں کہ پیشاب بند ہونے کی حالت میں انسان مچھلی کی طرح تڑپتا ہے، اسے برداشت نہیں ہوتا، تو آپ مچھلی کی طرح تڑپنے لگیں، ادھر ایک طبیب جس کے پاس ایسی دوا ہے جس سے پیشاب ہو جائے، تو آپ بتائیں اس طبیب کو کتنی قیمت دے کر وہ دوا خریدیں گے، اس نے کہا آدھی سلطنت دے کر خریدوں گا، انہوں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی یہ پوری سلطنت کی قیمت پانی کا ایک پیالہ پینے اور پھر اسے جسم سے نکالنے کے برابر ہے جب کہ تو نے تو زندگی میں ہزاروں پیالے پانی پیا ہو گا تو تم نے اللہ پاک کی کتنی نعمت استعمال کی ہو گی؟ بتلاؤ اس کی قیمت کیا ہو گی؟



















































