ایک نوجوان تھے۔ ان کی عادت تھی کہ جہاں کہیں ان کو اچھی کھجور کا درخت ملتا وہ کھجور توڑ کر کھا لیتے تھے۔ علاقے کا دستور یہ تھا کہ اگر پھل کہیں گرا پڑا ہو تو جو چاہے اٹھا کے کھا لے، اس بات کی عام اجازت تھی، لیکن درخت پر چڑھ کر کھجوریں توڑنے کے لیے مالک سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ نوجوان تھے۔ ان کو جہاں پھل پسند آیا، درخت پر چڑھ جاتے اور خوشہ توڑ کر کھانا شروع کر دیتے۔
ایک مرتبہ ایک مالک نے ان کو پکڑ لیا اور اس نے ان کو نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ یہ نوجوان کہتے ہیں کہ جب مجھے نبی کریمؐ کے پاس لایا گیا تو پہلے تو میں بڑا ڈرا کہ آج میرا ہاتھ کٹے گا۔ لیکن جب اس مالک نے بتایا کہ یہ نوجوان میری کھجوریں توڑتا ہے تو نبی کریمؐ نے میری طرف دیکھا اور مجھے بلایا، جب میں قریب گیا تو نبی کریمؐ نے شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر رکھا۔ میرا آدھا خوف تو وہیں ختم ہو گیا۔ پھر نبی کریمؐ نے مجھ سے سوال پوچھا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ میں نے بتایا کہ اے اللہ کے نبیؐ! مجھے بھوک لگتی ہے تو میں کھجوریں توڑ کر کھا لیتا ہوں۔ تو نبی کریمؐ نے ڈانٹا نہیں۔ بلکہ جواب میں سمجھایا کہ دیکھو، نیچے گری ہوئی کھجور ہو تو اٹھا کر کھا لیا کرو، اس کی اجازت ہوتی ہے۔ البتہ درخت پر چڑھ کر توڑنا مالک کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔ میں نے اسی وقت کہا: جی میں آج کے بعد ایسا نہیں کروں گا۔ نبی کریمؐ نے جب میری زبان سے یہ الفاظ سنے تو آپؐ خوش ہوئے اور پھر سرکار دو عالمؐ نے میرے لیے دعا فرمائی۔’’اے اللہ! اس کے فقر کو ختم کر دے، اس کی بھوک کو ختم کر دے۔‘‘ کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ کی زبان فیض ترجمان سے دعا سننے کے بعد میرے دل میں ایسی ٹھنڈک پڑی کہ اس کے بعد میں نے زندگی میں یہ عمل کبھی دوبارہ نہیں کیا۔۔۔ یہ ہوئی ہے اصلاح کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اور ہم اصلاح کیسے کرتے ہیں؟ جو جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے اتنا ہی اس سے زیادہ غصے سے پیش آتے ہیں۔



















































