ایک نابینا کو رات میں پانی لانے کی ضرورت پڑ گئی، کہیں دور سے اس نے پانی کاگھڑا اپنے سر پر رکھا اور لاتے ہوئے اس نے ایک ہاتھ میں چراغ جلا کر پکڑا ہوا تھا اب دیکھنے والے بڑے حیران تھے، کہنے لگے آپ تو نابینا ہو، آپ کو اس روشنی سے فائدہ تو کوئی نہیں،
آپ تو اپنے اندازے کے مطابق راستوں کے اوپر چلتے ہو تو آپ کو تو روشنی کی ضرورت ہی نہیں، اس نے کہا بالکل ٹھیک ہے، مجھے روشنی کی ضرورت نہیں لیکن رات کا اندھیرا ہے، آنکھوں والے جب اندھیرے میں چلتے ہیں تو ان کو صحیح پتہ نہیں چلتا، میں نے چراغ جلا کر اس لیے پکڑ لیا کہ کہیں کوئی آنکھوں والا مجھ سے نہ ٹکرائے اور اس کی وجہ سے میرا گھڑا نہ ٹوٹ جائے۔اندھا کتناسمجھ دار تھا کہ اس نے چراغ اس لیے پکڑاتھا کہ دوسرے لوگ راستے کو دیکھیں اور مجھ سے نہ ٹکرائیں، اس لیے کہ اگر ٹکرائیں گے تو نقصان تومیرا ہو گا، جوان عورت کو بھی یہی سوچ رکھنی چاہیے اگر میں بے پردہ باہر نکلی، اگر کسی غیر محرم نے دیکھ لیا اوراس کی نظر میں فطور آ گیا، اگر میں نے کسی کے ساتھ تنہائی میں باتیں کیں، اگر میں نے کسی کے ساتھ ٹیلی فون پر باتیں کرنا شروع کردیں اور ذرا سا بھی کسی کو موقع دیاتو عزت تو میری خراب ہو گی، دنیا کی بھی بدنامی اور اللہ کے ہاں کی بھی ناراضگی اور میں اس جہاد میں پھر ناکام ہو جاؤں گی، اپنے رب کو کیا منہ دکھاؤں گی، اس لیے اس کو ان باتوں کا خیال رکھناچاہیے۔



















































