امام اعظم ابو حنیفہؒ شروع میں کپڑے کی دکان کیا کرتے تھے۔۔۔ اس امت کو تجارت دو بندوں نے ہی کرکے دکھائی ہے، صحابہؓ میں سے صدیق اکبرؓ نے اور ائمہ میں سے امام اعظمؒ نے۔۔۔ ان کی دکان میں کپڑے کا ایسا تھان تھا جس میں کوئی داغ لگا ہوا تھا، اس لیے امام صاحبؒ نے اپنے ملازم سے کہا ہوا تھا کہ اگر تم سے کوئی بندہ یہ کپڑا خریدنے کے لیے آئے تو پہلے تم نے اس کو اس کپڑے کا یہ عیب دکھانا ہے،
پھر بیچنا ہے، اللہ کی شان کہ وہ اس بات کو بھول گیا، چنانچہ ایک بندہ آیا اور وہ عام روٹین کے حساب سے وہ تھان خرید کر لے گیا، جب امام صاحبؒ نے دیکھا تو پوچھا: کیا وہ تھان بک گیا؟ ملازم نے کہا، جی ہاں، پوچھا: کب بیچا ہے؟ اس نے بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بیچا ہے۔ امام صاحبؒ نے پوچھا کیا تم نے اسے کپڑے کا عیب دکھایا تھا؟ اس نے کہا: جی مجھے تو یاد ہی نہیں رہا، امام صاحب نے پوچھا: وہ آدمی کس طرف کو گیا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ اس طرف کو گیاہے۔امام صاحبؒ نے اس کے دیے ہوئے سارے پیسے اٹھائے اور اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، امام صاحبؒ نے ایک بندے سے پوچھا کہ اس طرح کا بندہ آپ نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ادھر کو گیاہے، دوسرے سے پوچھا تو اس نے بھی اس کے جانے کی تصدیق کی، حتیٰ کہ چلتے چلتے شہر کے کنارے پہنچے، وہاں پانی کا ایک جوہڑ تھا، اس جوہڑ کے قریب وہ آدمی موجود تھا، امام صاحبؒ نے اس آدمی کو حقیقت حال سے آگاہ کیااور فرمایا کہ میرے ملازم نے آپ کو بتانا تھا کہ اس کپڑے میں عیب ہے مگر وہ بھول گیااور بتا نہ سکا، اب میں آپ کے پیسے لے کرآیا ہوں، اگر تم چاہو تو اپنے پیسے لے لو اور سودا ختم کر سکتے ہو اوراگر چاہو تو اس سودے کو قبول کر لو، تمہیں اختیار ہے، اس نے کہا: جی آپ مجھے پیسے دے دیں حضرت نے اس کو پیسے دے دیے تو اس نے لے کر وہ پیسے جوہڑ میں پھینک دیے،
حضرت بڑے حیران ہوئے اور پوچھا: یہ آپ نے کیاکیاہے؟ وہ کہنے لگا: اگر آپ کا مال عیب والاتھا تو میں بھی کھوٹے پیسے دے کر آ رہا تھا، لہٰذا اب میں آپ کو صحیح پیسے دیتاہوں، چنانچہ اس بندے نے حضرت کو اب صحیح پیسوں سے پیمنٹ کی۔ اللہ رب العزت نے سچ کے بدلے ان کو کھوٹے پیسوں سے بچالیا اور کھرے پیسے عطا کردئیے۔۔۔ سچ ہمیشہ نجات دیتا ہے۔



















































