حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ نے خانیوال میں مسجد بنوائی، یہ مسجد پورے شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے، لوگوں نے اس کا نام ’’بے چندہ مسجد‘‘ رکھا، کیونکہ حضرتؒ نے کبھی اس مسجد کے لیے چندہ بھی نہیں کیاتھا، یہ مسجد بہت ہی عالیشان ہے۔والدہ صاحبہ نے یہ بات سنائی (کتابوں میں بھی مرقوم ہے) کہ ایک مرتبہ حضرتؒ کام کرنے والے لوگوں کی تنخواہیں نہ دے پائے۔۔۔
پھر اللہ تعالیٰ بھی کام کرنے والے، صابر، شاکر، محبت کرنے والے اور مجاہدے کرنے والے دے دیتے ہیں، حضرتؒ نے مزدوروں اور مستریوں سے یہ طے کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دے گا تو ہم آپ کو دے دیں گے اوراگر پاس نہیں ہوگاتو آپ بھی مانگنا اور ہم بھی اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے۔ چنانچہ اس بات کی بناء پر لوگ کام کرتے تھے، عیدالفطر کی آمد آمد تھی، اب حضرتؒ متفکر ہوئے کہ ان حضرات کو چند ماہ سے پیمنٹ رکی ہوئی ہے، آخر عید کے موقع پربیوی بچوں کے اخراجات ہوتے ہیں، اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم ان کی پیمنٹ کر دیتے، چنانچہ آپ دو رکعت پڑھتے اور پھر دعا مانگتے پھردو رکعت پڑھتے پھر دعا مانگتے۔ایک دفعہ ایک آدمی حضرتؒ سے ملنے آیا، وہ جاتے ہوئے کہنے لگا، حضرت! میں یہ سوٹ کیس آپ کے لیے ہدیہ لایا ہوں، حضرتؒ نے فرمایا بہت اچھا! آپ یہ سوٹ کیس اس بچے کو دے دیں تاکہ یہ گھر پہنچا دے، اس نے وہ سوٹ کیس بچے کو دے دیا، اور اس نے اسے گھر پہنچا دیا، جب وہ گھر لے کر پہنچا تو اس وقت والدہ صاحبہ عورتوں میں بات چیت کرنے میں مصروف تھیں، لڑکے نے کہا: حضرت جی نے یہ سوٹ کیس بھیجا ہے، اما جی نے کہا: اچھا اس کو یہاں اوپر کرکے رکھ دو! چنانچہ اس نے اوپر کرکے رکھ دیا، تین دنوں کے بعد حضرتؒ ایک مرتبہ گھر تشریف لائے اوروالدہ صاحبہ نے کہا کہ آپ نے ایک سوٹ کیسے بھجوایا تھا،
وہ کسی کی امانت ہے یا اپناہے؟ حضرتؒ نے فرمایا: وہ سوٹ کیس کسی نے ہدیہ کے طور پر دیا تھا اور میں نے وہ آپ کی طرف بھجوا دیاتھا، والدہ صاحبہ نے کہا: ذرا اسے اندر سے تو دیکھو کیسا بنا ہواہے؟ چنانچہ انہوں نے اسے اٹھایا تو وہ وزنی تھا، وہ کہنے لگیں: کیا یہ لوہے کا بنا ہواہے؟ حضرتؒ نے فرمایا کہ سوٹ کیس لوہے کا تو بنا ہوا نہیں ہوتا، پوچھا: پھر اس میں کیاہے؟ حضرتؒ نے فرمایا: اسے کھول کر دیکھ لو، اماں جی فرماتی ہیں کہ جب ہم نے اسے کھولا تو ہم حیران ہوئے کہ پورے کا پورا سوٹ کیس ہزار ہزار روپے کے نوٹوں کے ساتھ بھرا ہوا تھا، سبحان اللہ دینے والا بھی اتنا مخلص تھا کہ اس نے احسان بھی نہیں جتلایا اور لینے والے بھی ایسے مستغنی۔۔۔!!!



















































