دیہات میں کسی مولانا صاحب نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ بندے کو رزق کھلاتے ہیں، ایک نوجوان نے یہ سن کر دل میں یہ بات ٹھان لی کہ میں نہیں کھاتا، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رزق کس طرح کھلاتے ہیں، چنانچہ اگلے دن اس نے بھوک ہڑتال کر دی، لیکن بے چاری ماں تو ماں ہوتی ہے، اس نے پراٹھا بنایا اور سالن کے علاوہ مکھن اورچینی بھی ساتھ رکھ دی، اس نے بیٹے سے کہا: بیٹا! کھا لو، بیٹے نے کہا نہیں میں نہیں کھاتا،
وہ منت سماجت کرتی رہی لیکن وہ کہتا رہا کہ میں نہیں کھاتا، جب اس نے باربار کھانے کو کہا تو یہ تنگ آ کر گاؤں سے باہر درختوں کے جھنڈ میں جا کر لیٹ گیااور یہی سوچتا رہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آج مجھے کیسے کھلاتے ہیں، ماں بے چاری پیچھے پیچھے کھانا لے کر گئی اور اس کے قریب رکھ کر واپس آ گئی۔اب کھانا بھی پڑا تھا اور وہ بھی لیٹا ہوا تھا، جب اسے کھانے کی خوشبو آنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ کر تیس چالیس فٹ کے فاصلے پر لیٹ گیاتاکہ مجھے کھانے کی خوشبو بھی نہ آئے۔وہاں اردگرد کے کچھ ڈاکو تھے جو اس جگہ پر اکٹھے ہو کر اپنی پلاننگ بناتے تھے کیونکہ انہیں وہ محفوظ جگہ نظرآتی تھی، وہ دوپہر کے وقت آ کر وہاں بیٹھ گئے، اب ان کو بھی سالن کی خوشبو آئی تو وہ کہنے لگے، یار لگتا ہے کہ کہیں کھاناپڑا ہواہے، ایک نے کہا کہ تلاش کرنا چاہیے، چنانچہ تلاش کرنے پر انہیں کھانامل گیا، انہوں نے دیکھا کہ پراٹھا بھی ہے، مکھن بھی ہے اورسالن بھی ہے، ان میں سے ایک کہنے لگا کہ آج موج بن گئی کہ کھانا مل گیا، ان کا جو بڑاتھا وہ بہت ہی ہوشیار آدمی تھا، اس نے کہا: چپ کرو، مت کھانا، مجھے لگتا ہے کہ کسی بندے نے ہمیں مارنے کے لیے اس میں زہر ملائی ہوئی ہے اور اگر کسی نے ملائی ہے تو دیکھو، وہ کہیں نہ کہیں قریب چھپا ہوا ہو گا، جب انہوں نے ادھر ادھر ڈھونڈنا شروع کیاتو دیکھا کہ وہ صاحب ایک جگہ پر لیٹے ہوئے تھے۔
انہوں نے اسے بالوں سے پکڑ لیا اور کہا: او! تم نے اس کھانے میں زہرملائی ہے؟ اس نے کہا: نہیں میں نے تو نہیں ملائی، انہوں نے کہا: پھر تم نے یہ کھانا یہاں کیوں رکھا ہے؟ لگتا ہے کہ تو ہمارے ساتھ کوئی مکر کر رہاہے، انہوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اسی کو پہلے کھانا کھلایا جائے، چنانچہ انہوں نے اسے کھانا کھانے کو کہا تو وہ کہنے لگا: جی میں نہیں کھاتا، اب ان کو پکا یقین ہو گیا کہ اس میں زہر ہے،
انہوں نے پھر کہا کہ پہلے کھاؤ، اس نے پھر وہی جواب دیا، ان کے بڑے نے کہا کہ اسے دو جوتے لگاؤ، پھر کھائے گا، لو اب اسے جوتے بھی رسید ہونا شروع ہوگئے، لیکن وہ کھانا کھانے سے انکار ہی کرتا رہا، جب بے حد و حساب جوتے لگنے لگے تو کہنے لگا، جی معاف کر دیں، میں کھاتا ہوں، اس کے بعد اس نے ان کو پورا واقعہ بھی سنایا اور ان کے ساتھ مل کر روٹی بھی کھائی، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا،
جب اس کی اچھی خاصی مرمت ہوئی تو اس کے جسم پر جوتوں کے نشان پڑ گئے اور بے چارہ دردوں کے ساتھ گھر واپس آیا، ماں اس کی یہ حالت دیکھ کر خاموش ہو گئی۔اب اسے اگلے جمعہ کا انتظار تھا، اگلے جمعہ کے دن مولانا صاحب نے پھر تقریر کی کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں انسان کا رزق پہنچاتے ہیں، جب وہ بیان اور نماز کے بعد فارغ ہوئے تو یہ مولانا صاحب کے پاس جا کر کہنے لگا: مولانا! آپ ادھورے مسئلے بیان نہ کیا کریں،
انہوں نے کہا: میں تو پورے مسئلے بیان کرتاہوں، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ وہ کہنے لگا کہ آپ نے پچھلی دفعہ کہا تھا کہ جس کا رزق ہو اللہ تعالیٰ اس کو پہنچا کے رہتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں یہ پوری بات تو ہے، وہ کہنے لگا: جی نہیں، یہ پوری بات نہیں ہے، پورا مسئلہ یہ ہے کہ جس کا رزق ہو اللہ تعالیٰ اس کو پہنچا کے رہتے ہیں اور جو رزق نہ کھانا چاہے، اللہ تعالیٰ اس کو جوتے مار مار کر کھلاتے ہیں۔



















































