اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ سب کچھ کھاگیا

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

ایک مرتبہ کاذکرہےکہ شام کےوقت حضوراکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)مسجدنبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں تشریف فرماتھےکہ اچانک چندکافروہاں آگئے اور کہنے لگے، اے محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)!ہم بےسروسامان ہیں اوربہت دورسےآئےہیں ایک رات کےلیےہمیں اپنےپاس مہمان بناکررکھ لیں۔ حضورنبی اکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےصحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہما کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا:

اےمیرےصحابہ ان مہمانوں کوآپس میں بانٹ لوچنانچہ ہرایک صحابی نےایک مہمان منتخب کرلیا ۔ان مہمانوں میں سےایک بہت پیٹواوربسیارخورتھا۔ چونکہ یہ جسامت میں بھی بہت موٹاتھااس لیےاس کو کوئی اپنےگھرنہ لےکرگیا وہ اکیلا مسجد نبوی میں رہ گیا۔ جب کسی نےبھی اس کوقبول نہ کیا تو حضوراکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اس کو اپنے ساتھ مہمان بنا کر لے گئے۔ حضورنبی اکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےگلےمیں سات بکریاں دودھ دینےوالی تھیں یہ دودھ دینےوالی بکریاں جنگل میں نہ جاتی تھیں تاکہ ضرورت کےوقت انکادودھ دھوکراستعمال کرلیاجائے۔ حضورسرورکائنات(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےمہمان کےلیے دسترخوان بچھایااورگھرمیں جوروٹی اورسالن پکاہواتھااس کےسامنےلاکررکھاوہ مہمان جس کانام عوج بن عنق تھاوہ سب کچھ کھاگیااس کےبعد یکے بعد دیگرے ساتوں بکریوں کا دودھ بھی پی گیاحتی کہ اس بسیارخورنےگھروالوں کےکھانےکےلیےکچھ بھی نہ چھوڑا یعنی وہ اٹھارہ آدمیوں کاحصہ اکیلا ہی کھا گیا۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک لونڈی کواس پرغصہ آیا۔چنانچہ جب وہ مہمان سونےکےلیےحجرےمیں گیا تو لونڈی جوکہ غصےمیں بھری ہوئی تھی اس نےباہر سےدروازےکی کنڈی لگادی۔ جب آدھی رات ہوئی تواس کافرکوبدہضمی کی وجہ سےقضائےحاجت کی ضرورت درپیش ہوئی اورپیٹ میں دردشروع ہواوہ اپنےبسترسےاٹھ کردروازےکی طرف دوڑالیکن جب دروازےپرہاتھ رکھاتواس کوبندپایا

اس نےدروازہ کھولنےکی بہت تدبیریں کیں مگردوازہ نہ کھلااس پروہ بڑاپریشان ہواقضائےحاجت کی شکایت بڑھتی جارہی تھی آخرکاراس نے قضائے حاجت کودبانےکی یہ تدبیرکی کہ بسترپرلیٹ کرسوگیا۔نیندکی حالت میں اسےایک خواب دکھائی دیااوراس نےخواب میں اپنےآپ کوایک ویرانہ میں دیکھاجب اس نےاپنےآپ کوخالی ویرانہ میں دیکھاتوچونکہ اسےایسےہی ویرانےکی ضرورت تھی اسلیے نیند کی حالت میں ہی اس نےبسترپرپاخانہ کردیا۔ابھی وہ قضائےحاجت سےفارغ ہواہی تھاکہ اس کی نیندبھی کھل گئی اس نےبسترکی طرف نگاہ دوڑائی تووہ نجاست سےبھراہواتھا۔

اب تو وہ بہت پریشان ہوااس کےدل میں نازیباحرکت سےبہت سی پریشانیاں پیداہوگئیں۔ وہ اپنی رسوائی کےڈرسےکانپ اٹھادل میں کہاکہ میراسوان میری بیداری سےبھی بدترہے یعنی جاگتےہیں زیادہکھالیااورسوتےمیں بسترپرپاخانہ کردیا۔ اسےکچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیاکرے۔اب وہ اس بات کامتنظرتھاکہ یہ رات کب ختم ہوگی تاکہ دروازہ کھلنےکی آوازآئےاوروہ کمان سےنکلےہوئےتیرکی طرح یہاں سےبھاگ اٹھےتاکہ کوئی اس کواس حالت میں نہ دیکھے۔

حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوپردہ غیب سےمہمان کی یہ حرکت معلوم ہوچکی تھی چنانچہ صبح کےوقت آپ خودتشریف لائےاوردوازہ کھول کرخودچھپ گئےتاکہ اس کوشرمندگی نہ ہواوروہ باہرنکل کربلادھڑک چلاجائے۔جب کافرنےدروازہ کھلادیکھاتوخاموشی سےباہرنکل کربھاگ اٹھا۔

اسی اثناء میں ایک صحابی وہاں پرآئےاورہجرےمیں داخل ہوئےاوربستراٹھاکرحضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےسامنےلےکرآئےاورکہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کےمہمان نےیہ کیاکردیاہے۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکرا دیےاورفرمایاایک لوٹاپانی کابھرکرلےآؤتاکہ میں اس نجاست کواپنےہاتھوں سےدھودوں۔ تھوڑی دیرمیں وہاں پر اور صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی عہنمابھی تشریف لےآئےسب اس کام کےلیےآگےبڑھےکہ اس گندگی کوہم دھودیتےہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم رہنےدیں مگرحضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نےفرمایایہ نجاست میں خوداپنےہاتھوں سےدھوؤں گا۔

ادھروہ مہمان جب بھاگ کربہت دورچلاگیاتواسےیادآیاکہ اس کےپاس ایک نہایت یادگارقسم کی مورتی تھی جواب نہیں ہےاس نےخیال کیاکہ وہ حجرہ جہاں میں نےرات کوقیام کیاتھالاعلمی اور عجلت میں مورتی اس جگہ پرچھوڑآیاہوں اگرچہ وہ اپنےفعل سےشرمندہ تھامگرمورتی کی حرص نےاس کی شرمندگی ختم کردی اوراس کودوبارہ لوٹنےپرمجبورکردیاوہ مورتی کےلیےواپس آیاتواس نےدیکھاکہ حضورسرورکائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنےدست مبارک سےاس کی نجاست دھورہےتھے

وہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ان کریمانہ اخلاق کودیکھ کراس قدرمتاثرہواکہ مورتی کوبھول گیااوردیوانہ وار اپنا سردیواروں سےٹکرانےلگاجب اس کےسرسےخون بہاتوحضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کواس پررحم آگیا۔ وہ مہمان نعرےمارتاتھااورکہتا تھا اے لوگوں حضورپاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مخالفت سےڈرو۔ پھروہ اپنامنہ آسمان کی طرف اٹھاکرکہتاتھاکہ میرا منہ اس قابل نہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےروبروہوں۔

حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کی یہ بےقراری دیکھ کراٹھےاوراسےاپنےسینہ اقدس سےلگالیاپھراس کواطمینان دلایااورتسلی دیتےہوئےنورایمان عطافرمایا۔ اس کےبعدحضورسرورکائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےاس پرایمان پیش فرمایااس نےفوراکلمہ شہادت پڑھااورمسلمان ہوگیا۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےفرمایاتوآج کی رات بھی ہمارامہمان رہ۔اس نےکہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خداکی قسم!میں توہمیشہ کےلیےآپ کامہمان ہوں اب تومیں جہاں کہیں بھی رہوں آپ کےدسترخوان کاخوشہ چین ہوں آپ نےمجھےحیات ابدی عنایت فرمائی ہے۔

چنانچہ وہ عربی اس رات پھرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کامہمان ہوگـیا۔حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نےاس سے مزید کھانے پر اصرارفرمایاکہ دودھ اورروٹی کھالےمگراس نےکہاخداکی قسم!میں ایمانداری سےکہہ رہاہوں کہ میراپیٹ بھرگیاہے۔سب گھروالےحیران تھےکہ آج یہ مہمان تھوڑی سی غذا سے ہی سیرہوگیا۔اس پرحضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نےفرمایاکہ کافرسات انتڑیوں میں کھاتاہےاورمومن ایک انتڑی میں کھاتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…