حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ مری جانے کا اتفاق ہوا، رمضان مبارک میں تو ایک جگہ ہم نے تراویح پڑھی، ایک عجیب بات سنی وہ کہنے لگے کہ اس مصلے پر جو قراء سناتے ہیں وہ بڑے چنے ہوئے ہوتے ہیں، مگر خاص بات یہ ہے کہ چھتیس سال میں یہاں تراویح پڑھانے والے کسی حافظ کو ایک مرتبہ بھی لقمہ لینا نہیں پڑا، اللہ اکبرٖ!
تو آج کے دور میں اگر ایسے لوگ موجود ہیں تو ہم کیوں قرآن مجید کو اچھی طرح نہیں پڑھتے ہیں، یہ فقط اہمیت ہے وقت کی، جس نے محنت کر لی، اس نے وقت کو کما لیا، ورنہ وقت تو گزر ہی رہاہے، وقت انتظار نہیں کرتا کسی کا، تو جب یہ جسم ادھار کا مال ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے جتنا زیادہ عبادت کر سکیں، نیکی کر سکیں، مخلوق خدا کی خدمت کرسکیں، دین کا کام کر سکیں، ہم اس کو خوب اللہ کے دین کے لیے تھکائیں، فارغ رہنا خوشی کی بات نہیں ہے، عدیم الفرصت ہو جانا یہ خوشی کی بات ہے، فرصت ہی نہ ملے اتنا دین کے کام میں انسان لگ جائے۔ہمارے ایک قاری صاحب جن کو ہمارے بعض دوستوں نے دیکھا ہوگا، اس سال اجازت بھی دی خلافت بھی دی، چترال کے تھے، الحمدللہ ان کی زندگی کے اس وقت تیئس سال گزر چکے ایک دن روزہ ، ایک دن افطار، تیئس سال اس ترتیب پر وہ زندگی گزار چکے ہیں، تو بھئی اگرآج کے دور میں ایسے لوگ زندہ موجود ہیں جو اللہ کے لیے یہ کچھ کرتے ہیں تو کیا دس دن ہم اللہ تعالیٰ کی خوب جی بھر کے عبادت نہیں کر سکتے، مقصد یہ ہے کہ ان مثالوں کے دینے کا کہ ہم جو نیت لے کر آئے اعتکاف کی اب یہ دس دن جی بھر کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، خوب اپنے جسم کو تھکائیں، یہ جسم دنیا کے لیے ہزاروں مرتبہ تھکا، ہم نے راتیں دنیا کی خاطرسینکڑوں مرتبہ جاگ کر گزاریں، اگریہ دس راتیں اللہ کے لیے جاگ کے گزار دیں گے اور دن اللہ کی عبادت میں گزار دیں گے اور تھکائیں گے تو یہ کون سی بڑی بات ہو جائے گی، تو اس لیے دل میں ہمت و جذبہ ہو، شوق ہو کہ ہم نے ان دس دنوں میں خوب جی بھر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے۔



















































