اس دن ایک نئے ماڈل کی کار مدرسے کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئی اور ایک کلین شیو نوجوان، پینٹ شرٹ میں ملبوس، ہاتھوں میں بینڈ، گلے میں چین پہنے اس کار سے اتر کر تیز تیز قدموں سے ہماری طرف بڑھا، جیسے وہ خطرہ میں ہو، اس کے پیچھے کوئی لگا ہوا ہو، سوچا کہ شاید یہ ہم سے مدد طلب کرے گا یا اس کی گاڑی میں کوئی مسئلہ ہوگا۔ عموماً لوگ فتویٰ وغیرہ کے لیے بھی آتے ہیں،
کچھ مدرسے کی اعانت بھی کرتے ہیں۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد کافی پریشان لہجے میں اس نے بتایا کہ مولوی صاحب! یہاں قریبی ہاسپٹل میں میری وائف کی ڈیلیوری ہے اور اسے خون کی اشد ضرورت ہے، بلڈ بینک میں خون نہیں ملا تو مجھے ہاسپٹل والوں نے کہا کہ یہاں قریب میں ایک دینی مدرسہ ہے، وہاں چلے جاؤ، کام ہو جائےگا، تو اب میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ پلیز مولانا صاحب! میرا یہ کام کر دیجیے، میری وائف کی جان بچا لیجیے۔ یہ کہتے ہوئے اس نوجوان کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہم نے اسے تسلی دی اور مہتمم صاحب کے پاس لے گئے اور مدعا عرض کیا۔ ہماری بات سن کر مہتمم صاحب دو طالب علموں کو بلایا اور اس نوجوان کے ساتھ جانے کو کہا۔ ”بس دو“ اس نوجوان نے معصومیت سے کہا، ”کیوں دو سے کام نہیں ہوگا کیا“، مہتمم صاحب نے استفسار کیا، ”مولانا صاحب! ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ خون کی نو بوتلیں چاہییں“، نوجوان نے بتایا۔ مہتمم صاحب نے اس نوجوان کی بات سن کر کوئی درجن بھر لڑکے ان کے ساتھ بھیج دیے، اس کی اہلیہ کی ڈیلیوری خیر و عافیت سے ہوگئی اور بیٹے کی ولادت ہوئی۔ یہ ہے مدارس دینیہ کا وہ کردار جو مخفی رہتا ہے لیکن مدارس کے طلبہ کی یہ انسانیت کی خدمت میڈیا اپنے تعصب کی بنا پر عوام کے سامنے نہیں لاتا، صرف اس لیے کہ انسانیت کے ان خادموں کے سر پر ٹوپی ہوتی ہے، ان کے چہروں پر داڑھی سجی ہوتی ہے، وہ قمیض شلوار پہنے ہوئے ہیں،
وہ میڈیا کی اسکرین اور صفحوں پر گلیمر ظاہر نہیں کرتے، برانڈڈ کپڑے نہیں پہنتے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعمال میں سب سے زیادہ محبوب کسی مسلمان کو خوش کرنا ہے یا اس پر سے غم کا ہٹا دینا ہے۔ ایک اور حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغفرت کے واجب کرنے والی چیزوں میں کسی مسلمان کو خوشی پہنچانا اور اس کی مصیبت کو ہٹانا ہے۔



















































