کہتے ہیں شام کے وقت کوئی شخص امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا؛ حضرت کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا مال زمین میں دفن کر کے محفوظ کیا تھا، اب جب ضرورت پڑی ہے تو یاد ہی نہیں آتا کہاں دفن کیا تھا، مجھے اس کا حل بتائیے۔
امام ابو حنیفہ نے جواب دیا؛ یہ کوئی فقہ کے عالم کا کام تو نہیں جو تجھے یہ بتا سکے کہ تو نے اپنا مال کہاں دفن کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اس شخص سے کہا؛ جاؤ اور جا کر نماز پڑھنا شروع کرو، ان شاء اللہ تمہیں اپنے دفن کئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی۔ اس شخص نے گھر جا کر نماز پڑھنا شروع کی، ابھی کچھ دیر ہی گزر پائی تھی کہ اُسے یاد آ گیا کہ اس کا مال کدھر دفن ہے۔ فورا وہاں جا کر اپنا مال نکال لیا۔ دوسرے دن صبح کو امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں اپنے مال کے مل جانے کی اطلاع دی اور شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد اس نے امام صاحب سے پوچھا؛ آپ کو کیسے پتہ تھا کہ مجھے میرے دفن کئے ہوئے مال کی جگہ یاد آ جائے گی؟ امام صاحب نے کہا؛ مجھے یقین تھا کہ شیطان تجھے کبھی بھی ساری رات نماز پڑھتے رہنے کیلئے نہیں چھوڑے گا، وہ تیرے دماغ کو مال کی جگہ یاد کرنے میں اس وقت تک مشغول رکھے گا جب تک تجھے وہ جگہ یاد نہیں آ جاتی۔ ابراہیم بن ہانی کا بیان ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اﷲ علیہ جب تک میرے مکان میں رہے ان کا معمول رہا کہ دن میں روزہ رکھتے تھے افطار میں جلدی کرتے تھے اور عشاء کے بعد نفل پڑھ کر تھوڑا سو جاتے۔ اس کے بعد اٹھ کر وضو کرتے اوررات بھر نماز میں مشغول رہتے تھے۔



















































