اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ سے ملا دیں

datetime 19  اپریل‬‮  2017 |

وہ بڑا نواب تھا ، بڑی بڑی جاگیروں کا مالک سینکڑوں نوکر چاکر اور انگریزوں کے دور میں گاڑیوں کی بھرمار،، اللہ پاک نے اس کو ہر نعمت سے نواز رکھا تھا،، نواب صاحب نے سمجھا کہ اب کوئی اللہ والا مل جائے تو دنیا کےساتھ آخرت بھی ہاتھ میں آ جائے ،، پوچھتے پچھاتے ایک اللہ والے کا پتہ چلا اور نواب صاحب اس کی مجلس میں بیٹھنا شروع ہو گئے،

اللہ والے نے بھی کچھ عرصے بعد نوٹ کر لیا کہ یہ بندہ آتا ہے مگر کوئی سوال نہیں کرتا بس بیٹھ کر چلا جاتا ہے ، انہوں نے اس سے پوچھا کہ بابا کیا لینے فقیر کی مجلس میں آتا ہے ؟بابا جی بس اللہ سے ملا دیں ،، نواب صاحب نے سوچا سمجھا جواب دیا ،،بابا جی نے جواب سنا تو چپ کر گئے ،،،پھر ایک دن انہوں نے پوچھا ، بابا تو اس مجلس میں کس مقصد سے آتا ہے؟ بس حضرت اللہ سے ملاقات کرنی ہے ، اس کے بغیر تو نہیں ٹلوں گا ،، بابا اللہ ضد سے نہیں ملا کرتا ، پیار سے ملتا ہے تو خود اس سے پیار کر وہ آپ سےآپ تیرے دل کو اپنی معرفت کی تجلی سے منور کردے گا مگر نواب بھی ضدی تھا وہ مسلسل آتا رہا، رات کو شدت کا طوفان چلا، جنوری کا مہینہ تھا اور شدت کی سردی تھی ،یہ وہ زمانہ تھا جب سردی کی شدت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ نومبر ، دسمبر میں تالاب کی سطح برف میں تبدیل ہو جایا کرتی تھی، بارش ، سردی اور طوفان، نواب صاحب آتش دان بھڑکائے گرم بستر میں دبکے آرام فرما رہے تھے کہ مین گیٹ کو کسی نے کھٹکھٹانا شروع کیا اس بد تمیزی پر نواب صاحب بڑے غصّے ہوئے ، گرم کمرے کی کھڑکی سے پردہ جو اٹھا کر دیکھا تو پھٹے پرانے کپڑے پہنے ،بارش میں بھیگا ہوا ایک ضعیف سا شخص ان کے گارڈ کے منت ترلے کر رہا تھا ، وہ یقیناً نواب صاحب سے ملنے آیا تھا اور گارڈ اس کو اندر نہیں آنے دے رہا تھا ،، ایک ہی رستہ تھا کہ نواب صاحب اس فقیر کو طلب کر لیں یا گارڈ کو حکم دیں کہ وہ اسے اندر آنے دے،

نواب صاحب نے بغور اس میلے کچیلے بارش میں بھیگے فقیر کو دیکھا اور ملازمین کو طلب کرنے والا بٹن دبا دیا، محل نما حویلی میں بھگدڑ مچ گئ اور کئی ملازم بیک وقت نواب صاحب کی اقامت والے حصے کی طرف بھاگے، نواب صاحب نے انہیں کھڑکی میں سے ہی حکم دیا ، یہ حکم انہیں چیخ چیخ کر دینا پڑا کیونکہ طوفان کی شدت کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ،،تھوڑی دیر بعد انہوں نے یہ دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا کہ بہت سارے ملازم اس فقیر کو لے کردھکے مارتے اور ڈانٹتے ڈپٹتے حویلی سے دور لے جا رہے تھے ،نواب صاحب نے آتش دان میں مزید کوئلے ڈالے اور ڈبل رضائی لے کے سو گئے ،،اگلے دن وہ پھر اللہ والے کی مجلس میں موجود تھے ،،بابا تو ہمارے پاس کیوں آ کر اپنا وقت ضائع کرتا ہے اللہ والے نے پوچھا، بس حضرت اللہ سے ملاقات کرا دیں پھر کبھی آپ کو تنگ نہیں کرونگا، بابا اللہ تو کل رات تجھ سے ملنے آئے تھے مگر تو نے خود ہی ان کو اپنی حویلی سے نکال باھر کیا ، اللہ والے نے خشک لہجے میں جواب دیا ،تو گھمنڈ کرتا ہے اور کچھ نہیں ، تو سمجھتا ہے کہ اللہ بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کو تو اپنےجاہ و جلال اور دولت کی ریل پیل کے زور پر ضد کر کے پا لے گا ؟تو نے وہ حدیث قدسی نہیں سنی جس میں اللہ پاک کہتا ہے کہ اے میرے بندے میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھلایا نہیں اور بندہ کہے گا کہ اے اللہ تو خود سب کو کھلانے والا ہے تجھے بھلاکوئی کیسے کھلا سکتا ہے؟

تو اللہ کہے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا اور تیرے علم میں تھا اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو آج وہ کھانا میرے پاس پاتااے میرے بندے میں بیمار تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی ، بندہ کہے گا کہ اے اللہ تو خود رب العالمین ہے پھر تیری تیمارداری کیسے کی جا سکتی ہے اور اللہ کہے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تو اس کی بیمار پرسی کو جاتا تو مجھے وہاں پاتا ،،کل رات جس بندے کو تم نے دھکے دے کر نکلوایا ہے اللہ اسی کے ساتھ تیرے گھر آرہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…