اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ائیر فورس کے افسر نے 20برس قبل شہیدہونے والے بیٹے کی یاد میں نیا شہر آباد کر دیا، اللہ کے حکم سے اس علاقے کو تعمیر کرنے کا مقصد لوگوں کو صحت مندانہ ماحول، اچھی تعلیم اور صحت فراہم کرنا تھا، ائیرکموڈور شبیر کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق 13 دسمبر 1997کو فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے طیارے کو
دوران پرواز آگ لگ گئی ، کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے ہدایات ملنے لگ گئیں مگر قوم کے بہادر بیٹے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان نے آخری لمحے تک جہاز میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ خدشہ تھا کہ جہاز کہیں کسی آبادی پر نہ گر جائے اور اس سے ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچے۔ پاک فضائیہ کے جانباز افسر نے اپنی شہادت قبول کرتے ہوئے ملک و قوم کے تحفظ کے اٹھائے حلف کی حفاظت کی۔ فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے والد شبیر بھی پاک فضائیہ میں ائیرکموڈور رہ چکے ہیں ۔ بیٹے کی شہادت کے بعد آپ نے اپنے دیرینہ خواب جو کہ ایک نیا ماڈل شہر آباد کرنا تھا کو عملی جامہ پہنانے اور اسے شہید بیٹے کے نام سے منسوب کرنے کا بیڑا اٹھایا اور 20سال کی انتھک کوشش کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس ’’راشد آباد‘‘ کے خواب کو عملی جامہ پہنا دیا۔پاک فضائیہ میں اینجل شبیر اور فضائیہ کے ایدھی کے ناموں سے مشہور ائیر کموڈور شبیر خان نے ٹنڈوالہیار سے 6 کلومیٹر دوری پر اس علاقے’’راشد آباد‘‘ کی بنیاد ڈالی ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ائیرکموڈور شبیر خان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک مثالی اور ماڈل شہر بنانے کا خیال 71کی پاک بھارت جنگ کے دوران فضا میں طیارہ اڑاتے ہوئے آیا ۔’’راشد آباد‘‘کے قیام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اتفاق اور مل کر کام کرنے سے آپ ہر منزل حاصل کر سکتے ہیں۔
شبیر خان نے بتایا کہ ’’راشد آباد‘‘میں لوگوں کو سستی سواری فراہم کرنے کے لیے جب ریلوے اسٹیشن کے قیام کی تجویز دی تو محکمے نے صاف انکار کردیا تاہم جی ایم ریلویز میرے سینئر تھے خود تشریف لائے اور کہا کہ آپ اگر خود بنا سکتے ہیں تو بنائیں ۔کموڈور شبیر نے کہا کہ جی ایم ریلویز کی اجازت کے بعد ہم نےاپنی مدد آپ کے تحت اسٹیشن تعمیر کیا اور آج لوگ اس سہولت سے
فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں تاہم ایک ہنگامے کے دوران اسٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد حکومت نے اس کی تعمیر میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی مگر پروجیکٹ کے اختتامی مراحل میں اس کی مرمت کا کام کیا جائے گا۔راشد آباد میں دو اسکول موجود ہیں تاہم ایک اور اسکول تیاری اختتامی مراحل میں ہے اور انشاء اللہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا اسکول ہوگا، علاوہ ازیں راشد آباد میں 2 اسپتال بھی موجود ہیں جو عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ اللہ کے حکم سے اس علاقے کو تعمیر کرنے کا مقصد لوگوں کو صحت مندانہ ماحول، اچھی تعلیم اور صحت فراہم کرنا تھا۔



















































