سیدنا عمر بن الخطابؓ نے اپنے آپ کو کیسے مٹایا؟ ایک مرتبہ کسی جہاد سے مال غنیمت آیا۔ قیدی بھی آئے۔ آپؓ نے دیکھا تو خوش ہوئے۔ اس کے بعد لوگوں سے کہا۔ ذرا منبر کے قریب ہو جاؤ۔ لوگ منبر کے قریب ہو گئے۔ پھر آپؓ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر اپنے آپ کو کہا۔ ’’عمر! تو وہی تو ہے جس کی ماں خشک گوشت چبایا کرتی تھی‘‘
عرب میں یہ غربت کی علامت ہوتی تھی کہ جن کو کھانے کا کچھ وافر حصہ میسر نہیں ہوتا تھا وہ بھوک کی شدت کی وجہ سے خشک گوشت چبایا کرتے تھے۔ یہ بات کہہ کر حضرت عمرؓ منبر سے نیچے اتر گئے۔ صحابہ کرامؓ حیران ہوئے کہ ہمیں امیرالمومنین نے اکٹھا کیا تھا تو کیا یہی کچھ کہنا تھا۔ بعد میں انہوں نے حضرت عمرؓ سے پوچھا! حضرت آپ نے اتنے لوگوں کو اکٹھا بھی کیا کہ بات سنو اور کوئی خاص بات بھی نہیں کی۔ بس یہی کہا کہ عمر! تو اس ماں کا بیٹا ہے جو خشک گوشت چبایا کرتی تھی۔ آخر کیا وجہ ہے؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا، جب قیدی آئے اور مالِ غنیمت بھی آیا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ عمر! اللہ نے تجھے کیا ہی شان دی ہے کہ تیرے زمانے میں اسلام کو قوت ہو رہی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے نفس کے اندر کہیں عجب پیدا نہ ہو جائے۔ میں نے اس کا یہ علاج تجویز کیا کہ سارے لوگوں کو بلا کر ایک ایسی بات کہہ دی جس نے میرے اندر سے خود پسندی کو ختم کرکے رکھ دیا۔
طالبان علوم نبوت کے سامنے تواضع کی مثال
ایک مرتبہ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ حدیث پڑھا رہے تھے کہ ایک دم بارش شروع ہوگئی۔ طلباء نے اپنی کتابیں سمیٹیں اور کمرے میں بھاگ گئے۔ حضرتؒ نے رومال بچھایا،
طلبا کی جوتیاں اس میں ڈالیں اور اس کی گٹھڑی باندھ کر سر پر رکھی اور کمرے میں لے آئے۔ طلباء نے دیکھا تو ان کی چیخیں نکل گئیں، کہنے لگے حضرت! ہم خود جوتے اٹھا لیتے۔ حضرت نے جواب دیا۔ بچو! تم سارا دن ’’قال اللہ، اور قال الرسول‘‘ پڑھتے ہو، رشید احمد تمہارے جوتے نہ اٹھائے گا تو اور کیا کرے گا۔



















































