ملا طاہر لاہوریؒ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے دو بیٹے حضرت محمد سعیدؒ اور حضرت محمد معصومؒ کے استاد تھے۔ ایک مرتبہ مجدد الف ثانیؒ کو کشفاً پتہ چلا کہ ملا طاہر کی پیشانی پر ’’ملا طاہر لاہوری شقی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ حضرتؒ نے اس کا تذکرہ اپنے صاحب زادوں سے کر دیا۔ چونکہ حضرت کے صاحب زادے ملاطاہر کے شاگرد تھے،
اس لیے انہوں نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس شقاوت کو مٹا کر سعادت سے بدل دیں۔ چنانچہ حضرت نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! ملا طاہر لاہوری کی پیشانی سے شقی کا لفظ مٹا کر سعید کا لفظ تحریر فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کی دعا قبول فرما لی اور ملا طاہر لاہوری کی پیشانی پر شقی کے لفظ کے بجائے سعید کا لفظ لکھ دیا گیا۔
دعا کا بدلہ دعاؤں کی سوغات کے ساتھ
سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا عمل یہ تھا کہ اگر کوئی سائل ان کے دروازے پر آتا تو اپنی خادمہ کے ہاتھ اس کو پیسے بھجوا دیتیں اور دروازے پر آ کر خود سنتیں کہ وہ کیا کہتا ہے، خادمہ کو بھی اس بات کا پتہ تھا۔ اس نے ایک دن پوچھ لیا کہ اے ام المومنین! آپ کے ایک عمل کی ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کے در پر جب بھی کوئی سائل مانگنے آتا ہے تو آپ اس کو ہمارے ہاتھ سے دلواتی ہیں مگر پردے کے پیچھے جا کر سنتی ہیں کہ اس نے لے کر کیا کہا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟۔۔۔ ام المومنینؓ نے فرمایا کہ میں جا کر سنتی ہوں کہ وہ مجھے کیا دعا دے رہا ہے، جو دعا وہ مجھے دیتا ہے میں وہی دعا اس بندے کے لیے دیتی ہوں تاکہ میری دعا اس کی دعا کا بدلہ بن جائے، عمل کا اجر تو میں اپنے پروردگار سے چاہتی ہوں، سبحان اللہ ان کو اس بات کا کتنا خیال ہوتا تھا کہ مجھے اپنے عمل کا بدلہ اللہ رب العزت سے چاہیے۔



















































