یہ بات بڑے افسوس سے کہہ رہا ہوں کہ ایک قاری صاحب اپنے حالات بتاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ حضرت! جب میں بچوں کو پڑھا رہا تھا تو عین سبق سننے کی حالت میں میری شہوت بھری نظر ایک بچے پر پڑ رہی تھی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ جہاں قرآن پڑھا جائے وہاں رحمت اترتی ہے۔
اب وہ بندہ جس نے فجر سے پہلے کلاس لینی شروع کی اور پھر فجر کے بعد سے لے کر عشاء تک مختلف وقفوں سے بچوں کو اللہ کا قرآن پڑھایا: خود بھی پڑھا، بچوں سے بھی سنا اور ایک وقت میں درجنوں بچوں کے قرآن پڑھنے کی آواز اس کے کانوں میں جاتی رہی تو وہ تو دن کے بارہ بجے چودہ گھنٹے اللہ کی رحمتوں کے جھرمٹ میں بیٹھا رہا۔ ایسے بندے کا دل تو بالکل دھل جانا چاہیے تھا، اس پر نفس و شیطان نے غلبہ کیوں کیا اور اس پر قرآن مجید کی تلاوت کا اثر کیوں نہ ہوا؟ ہمارے مشائخ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اللہ کی رحمتوں کے اترنے میں تو کوئی شک ہی نہیں مگر اس کا دل ان رحمتوں کو جذب نہیں کر رہا ہوتا۔ایک مثال سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائیگی۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اگر آپ اس کو پہلے دن بھینس کا دودھ پلا دیں تو اس کا معدہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا اور اسے اسہال کی تکلیف ہو جائے گی۔ اس لیے بچے کو یا ماں کا دودھ پلایا جائے یا بکری کا دودھ پلایا جائے، چونکہ بکری کا دودھ بہت ہلکا اور پتلا ہوتا ہے اس لیے بچہ اسے برداشت کر لے گا اور جوان ہو کر بھینس کا ایک کلو دودھ بھی برداشت کر لے گا۔ کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ شروع میں اس کی استعداد کمزور تھی اس لیے اسے کسی ہلکی پھلکی چیز کی ضرورت تھی،
جب ہلکی غذا ملتی رہی اور وہ پرورش پاتا رہا تو پھر اس کے اندر استعداد بڑھتی گئی، حتیٰ کہ اس کے اندر گائے کا دودھ جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔ پھر جب بڑھتے بڑھتے وہ جوان ہو گیا تو اب اس کے اندر بھینس کا دودھ برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔ بالکل اسی طرح قرآن مجید کے انوارات ثقیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے‘‘۔ (المزمل:50)
اس لیے اس کے انوارات کو برداشت کر لیناہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی، ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ ذکر اللہ کے انوارات بہت لطیف ہوتے ہیں، لہٰذا جو بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اس کا قلب گناہوں کی میل کی وجہ سے جتنا بھی گندہ ہو ذکر کے انوارات کو قبول کر لیتا ہے، اس ذکر سے اس کے قلب کی نورانیت بڑھتی رہتی ہے حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کا قلب لاالہ الااللہ کے انوارات قبول کرنے کے قابل ہو جاتا ہے لاالہ الااللہ کا ذکر کرتے کرتے انسان کی ایک ایسی کیفیت بن جاتی ہے کہ جب وہ قرآن مجید کے انوارات سے بھی فیض پانا شروع کر دیتا ہے۔ اب اس کے قلب کی روحانیت اتنی بن چکی ہوتی ہے کہ یہ قرآن سن کر پھڑک اٹھتا ہے۔



















































