ایک بزرگ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ ستر سال کی عمر تھی اور ستر سال کی عمر میں وہ روزانہ ستر مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے ہر طواف کے سات چکر ہوتے ہیں اور ستر طواف کے 490 چکر اور ہر طواف کے دو رکعت واجب الطواف واجب لغیرہ ادا کرنے پڑتے ہیں، ستر ہوں تو 140 رکعت نفلیں، اب ہم 140 رکعتیں نفلیں ہی پڑھ کردیکھ لیں کہ حالت کیا بنتی ہے،
یہ ان کے عملوں میں سے ایک عمل تھا کہ 490 چکر لگاتے اور اس کے اوپر 140 رکعت نفلیں پڑھتے اور یہ زندگی کا ایک معمول تھا باقی معمولات اس کے علاوہ ہوا کرتے تھے۔
فرش حرم تک پہنچ کر بھی دید کعبہ سے محروم
کسی ملک میں ایک ڈاکٹر صاحب ملے۔ انہوں نے اپنا واقعہ خود سنایا کہ ہم گھر والے عمرہ کرنے کے لیے گئے ہم اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے کر گئے، وہ بھی ڈاکٹر تھا۔کئی تو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہوتے ہیں اور کئی پی ایچ ڈی صرف ہوتے ہیں کیا مطلب؟ پی کا مطلب ’’پھرا‘‘ ایچ کا مطلب ’’ہوا‘‘ اور ڈی کا مطلب ’’دماغ‘‘ یعنی پھرا ہوا دماغ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے احرام باندھے اور مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب عمرہ کرنے کے لیے مسجد حرام کے دروازے پر پہنچے تو ہمارا بیٹا کہنے لگا کہ میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے لہٰذا میں اندر نہیں جاتا۔ ہم نے اسے سمجھایا لیکن وہ کہنے لگا نہیں۔ ہم نے کہا کہ پھر تم یہیں بیٹھ جاؤ تاکہ تمہاری طبیعت کچھ سنبھل جائے۔ جب ہم دونوں میاں بیوی عمرہ کرنے کے لیے آئے تو بیٹا واپس کمرہ میں آیا، کپڑے بدلے اور وہاں سے واپس اپنے ملک آ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بیت اللہ شریف کے دروازے سے واپس دھتکار دیا۔ بیت اللہ کے دروازے تک پہنچ گیا لیکن بیت اللہ شریف دیکھنے کی توفیق نہ ملی۔حسرت ہے اس مسافر مضطر کے حال پر۔۔جو تھک کے رہ گیا ہو منزل کے سامنے۔



















































